Wednesday , December 12 2018

فلسطین سے مسلمانوں کا مذہبی و سیاسی تعلق ، 23 فروری کو جلسہ

حیدرآباد ۔ 20 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : فلسطین سے مسلمانوں کا مذہبی و سیاسی تعلق ہے اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا سیاسی تعلق اس مسئلہ سے ہے ۔ مسلمانوں کا مذہبی تعلق مسئلہ فلسطین سے ہونے کی بنیادی وجہ فلسطین میں قبلہ اول و مسجد اقصیٰ کی موجودگی ہے ۔ جناب سید وقار الدین ایڈیٹر انچیف روزنامہ رہنمائے دکن و صدر نشین انڈو عرب لیگ نے آج ایک

حیدرآباد ۔ 20 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : فلسطین سے مسلمانوں کا مذہبی و سیاسی تعلق ہے اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا سیاسی تعلق اس مسئلہ سے ہے ۔ مسلمانوں کا مذہبی تعلق مسئلہ فلسطین سے ہونے کی بنیادی وجہ فلسطین میں قبلہ اول و مسجد اقصیٰ کی موجودگی ہے ۔ جناب سید وقار الدین ایڈیٹر انچیف روزنامہ رہنمائے دکن و صدر نشین انڈو عرب لیگ نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ انڈو عرب لیگ ہند ۔ عرب تعلقات میں تقویت کے علاوہ فلسطین میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے اور اسی سلسلہ میں 23 فروری بروز اتوار صبح 10-30 بجے دن جوبلی ہال باغ عامہ میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے ۔ اس جلسہ میں مفتی اعظم فلسطین محمد اے ایچ حسین حفظہ اللہ بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کریں گے اور فلسطین کی موجودہ صورتحال سے شرکاء کو واقف کروائیں گے ۔ جناب سید وقار الدین قادری نے بتایا کہ اس جلسہ عام سے مفتی اعظم فلسطین کے علاوہ عبداللہ یم آئی ۔ عبداللہ رکن پارلیمنٹ فلسطین ، سفیر فلسطین متعینہ ہند الشیخ حسن صادق عدلی شعبان ، جناب محمد حسین الشریف سفیر الجیریا متعینہ ہند ، جناب ربہ تباروت سربراہ قونصل امور سفارتخانہ الجیریا ، جناب احمد محمد جبروان صدر عرب پارلیمنٹ و رکن نیشنل کونسل آف یو اے ای شرکت کریں گے ۔ علاوہ ازیں اس جلسہ عام سے مرکزی وزیر جناب سروے ستیہ نارائنہ ، جناب قمر الاسلام ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کرناٹک اور دیگر معززین بھی مخاطب کریں گے ۔ جناب سید وقار الدین قادری نے بتایا کہ 1967 سے انڈو عرب لیگ ان کوششوں میں مصروف ہے ۔

انہوں نے حکومت ہند کی خارجہ پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کی خارجہ پالیسی موجودہ حکومت میں انتہائی بدتر ہوچکی ہے اور سابق میں ہند اسرائیل تعلقات اتنے مستحکم نہیں ہوئے تھے جتنے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں ہوئے ہیں ۔ جناب سید وقار الدین نے بتایا کہ سابقہ حکومتوں نے اسرائیل سے دوری رکھی ہوئی تھی لیکن موجودہ حکومت یہ دوری برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں پر مذمت سے بھی گریز کررہی ہے ۔ صدر نشین انڈو عرب لیگ نے اس موقعہ پر بتایا کہ فلسطین میں مظالم اب انتہاء کو پہنچ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان مظالم پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ اسی لیے حق کی طرف داری کے مقصد سے آواز اٹھانا ضروری ہے ۔ اس موقعہ پر جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا سی پی آئی ، جناب میر اکبر علی خاں کے علاوہ جناب ابوبکر و دیگر اس موقعہ پر موجود تھے ۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ بائیں بازو جماعتیں ہمیشہ ہی فلسطینی کاز کی حامی رہی ہیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھا رہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ چند برسوں کے دوران بعض دیگر مسائل نے قومی سطح پر ترجیح حاصل کرلی ہے جس کے باعث ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر کسی کی توجہ مرکوز نہیں ہے ۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے بتایا کہ بائیں بازو جماعتیں عرب ممالک کی حمایت سے کبھی دستبرداری اختیار نہیں کرسکتی چونکہ بائیں بازو جماعتیں بنیادی طور پر مخالف اسرائیل و امریکہ ہیں چونکہ دونوں ہی ظلم کی بنیاد پر حکومت چلا رہے ہیں ۔ جناب سید وقار الدین قادری نے بتایا کہ اب اسرائیل کے مظالم اس حد تک انتہا کو پہنچ چکے ہیں کہ یوروپی ممالک بھی اس کی مذمت کررہے ہیں لیکن ہندوستان اب بھی خاموش ہے ۔ جناب میر اکبر علی خاں نے بھی اس پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران فلسطین کی تاریخی اہمیت سے واقف کروایا ۔۔

TOPPOPULARRECENT