Thursday , May 24 2018
Home / Top Stories / فلسطین میں اسرائیل کی یہودی آباد کاری غیر قانونی ۔ یواین ‘اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں پانچ قراردیں منظور

فلسطین میں اسرائیل کی یہودی آباد کاری غیر قانونی ۔ یواین ‘اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں پانچ قراردیں منظور

828797 08.12.1988 Генеральный секретарь ЦК КПСС, Председатель Президиума Верховного Совета СССР Михаил Сергеевич Горбачев выступает на сессии Генеральной ассамблеи ООН во время официального визита в США. Юрий Абрамочкин/РИА Новости

قرارداد میں فلسطین میں اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی شدید مذمت۔ صیہونی ریاست پر تنازع فلسطین کے حل کے لئے تمام پرامن ذرائع استعمال کئے جانے پر زور۔ قرارداد کی حمایت میں157ملکوں نے ووڈ ڈالا
نیویارک۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی حمایت میں پانچ قراردادیں کثر رائے سے منظور کی گئیں۔ان قراردادوں میں فلسطین میں اسرائیل کی یہودی آبادی کاری کی شدید مذمت کی گئی اور صیہونی ریاست پر زوردیا ہے تاکہ تنازع فلسطین کے حل کے لئے تمام پرامن ذرائع استعمال کئے جائیں۔

پہلی قرارداد قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لئے امن ذرائع کا استعمال کے عنوان منظور کی گئی۔قرارداد کی حمایت میں157ممالک نے ووٹ ڈالا جب کہ سات ممالک نے کینڈا ‘ اسرائیل‘ جزائر مارشل‘ میکرونیزا ‘ ناورو جزسلیمان‘ اور امریکہ نے مخالفت کی جب ک یاٹھ ممالک آسٹریلیا‘ کیمرون ‘ فجی‘ ھنڈوراس‘ بوبا گینیا‘ ہارا گوئے ‘ جنوبی سوڈان اور ٹونکا نے قرارداد کی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری قرارداد القدس کے عنوان سے پیش کی گئی۔

اس قرارداد میں بیت المقدس میں جاری اسرائیلی توسیع پسندی ‘ فلسطینیوں کے مکانات او راملاک کی مسماری کی مذمت کے ساتھ مقدس مقامات کی بے حرمتی روکنے کا مطالبہ کیاگیا۔قرارداد کی حمایت میں151ممالک نے رالے شماری میں حصہ نہیں لیا۔تیسری قرارداد فلسطین میں ذرائع ابلاغ کو درپیش مشکلات اور صحافیوں کے مسائل کے بارے میں پیش کی گئی۔

اس قرارداد کی حمایت میں155ممالک نے ووٹ ڈالااور اٹھ نے مخالفت کی اور اٹھ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔چوتھی قرارداد میں فلسطینیوں کی بنیادی حقوق کی حمایت کی گئی۔اس قرارداد کی حمایت میں103مملکوں نے ووٹ ڈالا دس نے مخالفت کی جب 57نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

پانچویں قرارداد بھی فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں پیش کی گئی۔اس قرارداد کی حمایت میں ایک سو ملکوں نے رائے دی دس نے مخالفت کی اور جبکہ59ممالک نے رالے شماری میں حصہ نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT