Tuesday , December 11 2018

فلسطین میں حالات کشیدہ، اسرائیلی پولیس سخت چوکس

دبئی، 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سن 1948ء میں اسرائیلی قبضے میں جانے والے فلسطینی علاقے کفر کنا میں اتوار کو رات دیر گئے تک مشتعل فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیلی پولیس نے ’گرین لائن‘ کے اندر واقع علاقوں میں دو ماہ قبل غزہ پر مسلط جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ہائی الرٹ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی قصبے کفر کنا میں پچھلے ایک روز سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب مقامی آبادی نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کیخلاف اسرائیلی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف ’کاروبار بند‘ ہڑتال کا اعلان کرنے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ اتوار کے روز کفر کنا اور بعض دوسرے مقامات پر اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے مابین آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ اندورن فلسطین کی مقامی سماجی تنظیموں اور تاجر برادری نے مزید 24 گھنٹے کیلئے کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیلی پولیس کو کفر کنا اور دوسرے علاقوں میں سخت چوکسی اختیار کی گئی ہے۔ دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو نے کابینہ کے اجلاس کے بعد سکیورٹی حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے دفاع میں سرگرم گروپوں کو اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزام میں خلاف قانون قرار دینے کیلئے لائحہ عمل مرتب کریں۔ خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کے دفاع کیلئے ’’المرابطون‘‘ کے نام سے قائم کی گئی ایک تنظیم سرگرم عمل ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس گروپ میں شامل افراد کو مسجد اقصیٰ میں موجود رہنے کیلئے ماہانہ معاوضہ مہیا کیا جاتا ہے۔ اتوار کے روز صیہونی کابینہ کے اجلاس میں بیت المقدس میں پرتشدد مظاہرے کرنے اور اسرائیلی فوج پر حملوں میں ملوث عرب شہریوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ نیتن یاھو نے اس تجویز کی منظوری کا عندیہ دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بیت المقدس میں حالیہ کشیدگی کی ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں پر عائد کی جو ان کے بقول انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں۔

TOPPOPULARRECENT