Tuesday , January 23 2018
Home / عرب دنیا / فلسطین میں غیر قانونی یہودی بستی گرانے کا حکم

فلسطین میں غیر قانونی یہودی بستی گرانے کا حکم

یروشلم ، 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی سپریم کورٹ نے مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آبادکاروں کی تعمیر کردہ سب سے بڑی غیر قانونی بستی کو ہر صورت میں گرانے کا حکم دے دیا ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدلت کی طرف سے یہ حکم گزشتہ روز سنایا گیا جس کی تفصیلات اسرائیلی ذرائع ابلاغ

یروشلم ، 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی سپریم کورٹ نے مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آبادکاروں کی تعمیر کردہ سب سے بڑی غیر قانونی بستی کو ہر صورت میں گرانے کا حکم دے دیا ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدلت کی طرف سے یہ حکم گزشتہ روز سنایا گیا جس کی تفصیلات اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے شائع کیں۔ عدالت نے اسرائیلی حکام کو اس بستی کے انہدام کیلئے زیادہ سے زیادہ 2 سال تک مہلت دی ہے۔ یہودی آبادکاروں کی کسی سرکاری اجازت نامے کے بغیر تعمیر کی گئی اس بستی میں تقریباً 50 اسرائیلی خاندان رہتے ہیں۔ یہ بستی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کسی بھی جگہ پر قائم کی گئی سب سے بڑی غیر قانونی یہودی بستی ہے۔

یہودی بستی گرانے کا فیصلہ اسرائیلی سپریم کورٹ کے صدر آشیر گرونس کی سربراہی میں 3 ججوں پر مشتمل ایک پینل نے اتفاق رائے سے سنایا۔ عدالتی حکم کے مطابق مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں آمونہ نامی اس بستی کو 2 سال کے اندر اندر کسی بھی طرح خالی کرا کے لازمی طور پر گرا دیا جانا چاہئے۔ آمونہ کے مستقبل کے بارے میں یہ قانونی جنگ 8 سال تک جاری رہی۔ سپریم کورٹ کے سربراہ نے اس مقدمے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ بستی اور وہاں تعمیر رہائشی ڈھانچے ایسی جگہ پر تعمیر کئے گئے تھے جو کسی کی نجی ملکیت تھی، اس لئے وہاں تعمیرات کو چاہے وہ ماضی میں ہی عمل میں آئی ہوں، جائز اور قانونی قرار دینے کا کوئی امکان نہیں۔

TOPPOPULARRECENT