Sunday , July 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / فلسفہ ٔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم

فلسفہ ٔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم

سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کریمہ میں حضور فخرموجودات سید کائنات ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے متعلق عقل کوتاہ اندیش اور فہیم حقیقت ناشناس نے پہلے بھی ردوقدح کی اور آج بھی واویلا مچا رکھاہے ۔ اس لئے اس مقام کا تقاضہ یہ ہے کہ تطویل لاطائل سے دامن بچاتے ہوئے ضروری اُمور کا تذکرہ کردیا جائے تاکہ حق کی جستجو کرنے والوں کے لئے حق کی پہچان آسان ہوجائے اور شکوک و شبہات کا جو غبار حسن حقیقت کو مستورکرنے کیلئے اٹھایا جارہا ہے ۔ اس کا سدباب ہوجائے ۔
سفر معراج میں پیش آنے والا ہر واقعہ بلاشبہ عجیب و غریب ہے اسی لئے وہ دل جو نور ایمان سے خالی تھے انھوں نے اسے اسلام اور داعی اسلام کے خلاف سب سے بڑا اعتراض قرار دیا ۔ کئی ضعیف الایمان لوگوں کے پاؤں ڈگمگاگئے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جن دلوں میں یقین کا چراغ ضوفشاں تھا انھیں قطعاً کوئی پریشانی اور تذبذب نہیں ہوا اور نہ دشمنان اسلام کی ہرزہ سرائی اور غوغا آرائی سے وہ متاثر ہوئے بلکہ جب حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے اس واقعہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے بلاجھجک جواب دیا کہ اگر میرے آقا و مولا نے ایسا فرمایا ہے تو یقینا سچ ہے ۔ اہل ایمان کے نزدیک کسی واقعہ کی صحت و عدم صحت کا انحصار اس پر نہیں تھا کہ ان کی عقل اس بارے میں کیا رائے رکھتی ہے بلکہ وہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت بے پایاں کے سامنے کسی چیز کو ناممکن خیال نہیں کرتے تھے ۔
اب ذرا ان حضرات کے ارشادات کی طرف توجہ فرمائیے، جو معراج اور دیگر معجزات کا اسی لئے انکار کرتے ہیں کہ یہ خلاف عقل ہے۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ کائنات کا یہ نظام، اس میں بے عدیل ارتباط اور موزونیت، بے مثل ترتیب اور یکسانیت اس امر پر شاہد عادل ہے کہ یہ نظام چند قوانین اور ضوابط کے مطابق عمل پیرا ہے جنھیں قوانین فطرت کہا جاتا ہے اور فطرت کے قوانین اٹل ہیں، ان میں رد و بدل ممکن نہیں، ورنہ کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ اس لئے عقل معجزات کو تسلیم نہیں کرتی، کیونکہ معراج بھی ایک معجزہ ہے، اس لئے یہ بھی عقلاًمحال ہے۔ اس کے متعلق گزارش یہ ہے کہ علمائے اسلام نے معجزہ کی تعریف جو کی ہے، وہ یہ نہیں کہ معجزہ وہ ہوتا ہے جو قوانین فطرت کے خلاف اور نوامیس قدرت سے برسر پیکار، بلکہ معجزہ کی تعریف یہ ہے کہ ’’مدعی رسالت کی سچائی ثابت کرنے کے لئے کسی ایسے امر کا ظہور پزیر ہونا جو عادت کے خلاف ہو اسے معجزہ کہتے ہیں‘‘۔ یہ تعریف نہیں کی گئی کہ معجزہ وہ ہے جو قانون فطرت اور نوامیس قدرت کے خلاف مانا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ معجزات قانون فطرت کے مطابق ہی رو پذیر ہوں لیکن ابھی تک وہ قانون فطرت ہمارے ادراک کی سرحد سے ماوریٰ ہو، یہ دعویٰ کرنا کہ فطرت کے تمام قوانین بے نقاب ہو چکے ہیں اور ذہن انسانی نے اس کا احاطہ کرلیا ہے، انتہائی مضحکہ خیز اور غیر معقول ہے۔ آج تک کسی فلسفی یا سائنس داں نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا۔

نیز قوانین قدرت کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ اٹل اور غیر متغیر ہیں، یہ بھی ناقابل تسلیم ہے۔ یہ خیال تب قابل تسلیم ہوتا جب ان قوانین کو ہر قسم کے نقص اور عیب سے مبرا سمجھ لیا جائے اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ اختیار کیا جائے کہ اس کائنات کی آرائش و زیبائش کے لئے یہی قوانین کفایت کرتے ہیں، لیکن اہل خرد کے نزدیک یہ خیال محل نظر ہے۔ چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹیانکا کے مقالہ نگار نے معجزہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:
it is an unwarranted idealism and optimism which finds the course of nature so wise and so good that any change in it must be regarded as incredible (Ency Bri. V 15 P-585)
یہ ایک غیر معقول تصور اور خوش فہمی ہے، جو یہ خیال کرتا ہے کہ فطرت کا طریق کار اتنا دانش مندانہ اور بہترین ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں۔
اس کے علاوہ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ کیا آپ اللہ تعالی کے وجود کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر آپ منکر ہیں تو آپ سے معجزات کے متعلق بحث عبث اور قبل از وقت ہے۔ پہلے آپ کو وجود خداوندی کا قائل کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد معجزے کے اثبات کا مناسب وقت آئے گا اور اگر آپ وجود خداوندی کے قائل تو ہیں لیکن آپ کا تصور یہ ہے کہ خدا اور فطرت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ یا آپ خدا کو خالق کائنات تو مانتے ہیں لیکن یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس کا اب اپنی پیدا کردہ دنیا میں کوئی عمل دخل نہیں اور وہ اس میں کسی طرح کا تصرف نہیں کرسکتا بلکہ الگ تھلگ بیٹھ کر ایک بے بس تماشائی کی طرح کائنات کے ہنگامہ ہائے خیر و شر کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے لیکن کچھ کر نہیں کرسکتا، تو پھر معجزہ کے انکار کی وجہ سمجھ میں آسکتی ہے لیکن اگر آپ ذات خداوندی کے قائل ہیں اور اسے خالق ماننے کے ساتھ ساتھ قادر مطلق اور مدبر بااختیار بھی تسلیم کرتے ہیں اور یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ کوئی پتہ اس کے اذن کے بغیر جنبش تک نہیں کرسکتا تو پھر آپ کا نوامیس فطرت کو غیر متغیر یقین کرنا اور اس بنا پر معجزات کا انکار ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کا عام معمول یہ ہے کہ وہ علت و معلول اور سبب و مسبب کے تسلسل کو قائم رکھتا ہے اور ظہور معجزہ کے وقت اس نے اپنی قدرت اور حکمت کے پیش نظر خلاف معمول اس تسلسل کو نظرانداز کردیا ہے، کیونکہ وہ ایک بااختیار ہستی ہے، وہ جب چاہے اپنے معمول کو بدل دے۔
ایک شخص کی سالہا سال کی عادت یہ ہے کہ وہ روزانہ رات کو دس بجے سوتا ہے اور صبح چار بجے بیدار ہوتا ہے۔ اگر کسی روز آپ اسے ساری رات جاگتے ہوئے دیکھیں تو آپ اس مشاہدہ کا انکار نہیں کرسکتے۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہی کہہ سکتے ہیں کہ آج خلاف معمول فلاں صاحب رات بھر جاگتے رہے، اسی طرح ان قوانین فطرت کو عادت خداوندی اور معمول ربانی سمجھنا چاہئے اور کسی چیز کا خلاف معمول وقوع پزیر ہونا قطعاً اس کے ناممکن ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا:
The law of nature may be regarded as habits of the divine activity, and miracles as unusual acts which, while consistant with divine character, mark a new stage in the fulfilment of the purpose of God. (Ency. Bri. V. 15, P-586).
قوانین قدرت کو ہم عادت خداوندی کہہ سکتے ہیں اور معجزات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے کسی حکمت کے پیش نظر خلاف عادت ایسا کیا ہے اور یہ قطعاً روا نہیں۔
مغربی فلاسفہ میں سے ڈیوڈ ہیوم نے معجزات پر بحث کی ہے اور بڑے شد و مد سے ان کا انکار کیا ہے۔ اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے، وہ توجہ طلب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ عالم ایک مخصوص نہج اور متعین انداز کے مطابق چل رہا ہے اور معجزات ہمارے تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف رو پزیر ہوتے ہیں اس لئے معجزہ کو ثابت کرنے کے لئے ہمارے پاس جو دلائل ہیں وہ تجربہ اور مشاہدہ کے دلائل و براہین سے جب تک قوی و مضبوط نہ ہوں اس وقت تک ہم معجزہ کو تسلیم نہیں کرسکتے اور کیونکہ ثبوت معجزہ کے لئے ایسے وزنی دلائل موجود نہیں، اس لئے عقلاً معجزہ کا امکان تسلیم کرنے کے باوجود ہم ان کے وقوع کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ انسائیکلو پیڈیا کا مقالہ نگار ہیوم کے اس نظریہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے:

ہم تمہارا یہ قاعدہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ معجزات تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہوتے ہیں۔ تجربات سے تمہاری مراد کیا ہے؟ کیا تم یہ کہتے ہو کہ معجزہ تمام تجربات کے خلاف ہوتا ہے؟ تو آپ کا یہ قاعدہ کلیہ محتاج دلیل ہے۔ پہلے آپ یہ تو ثابت کرلیں کہ آپ نے تمام تجربات کا احاطہ کرلیا ہے۔ پھر آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ معجزہ ان تمام تجربات کے خلاف ہے۔ جب تک کہ آپ اپنی دلیل کی کلیت ثابت نہیں کرسکتے، اس وقت تک آپ کی دلیل قابل قبول نہیں اور اگر آپ یہ کہیں کہ تجربات سے مراد تجربات عامہ ہیں، یعنی معجزہ تجربات عامہ کے خلاف ہے تو پھر اس سے فقط اتنا ہی ثابت ہوا کہ معجزہ عام تجربات اور عام معمولات کے خلاف ہے۔ تمام تجربات اور مشاہدات کے مخالف ہونا تو لازم نہ آیا، ہو سکتا ہے کہ یہ معجزہ کسی تجربہ کے مطابق ہو، لیکن وہ تجربہ آپ کے فہم کی رسائی سے ابھی بلند ہو۔
This phrase itself (that miracle is contrary to experience) is as paley pointed out, ambiguous. If it means all experiences it assumes the point to be proved, it means only common experience then it simply asserts that the miracle is unusual a truism. (Ency. Bri. V-15, P-586).
استاد احمد امین مصری ہیوم کے فلسفہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہیوم نے اپنے ایک مقالہ میں معجزات پر بحث کی ہے اور بڑی کوشش سے ان کا بطلان ثابت کیا ہے۔ اس میں اس نے لکھا ہے: کیونکہ معجزات ہمارے تجربے کے خلاف ہیں اس لئے ناقابل تسلیم ہیں۔ استاد موصوف لکھتے ہیں کہ ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم ہیوم سے پوچھیں کہ ایک طرف تو تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ علت و معلول اور سبب و مسبب کا حقیقت الامر سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ ہم بارہا مشاہدہ کرتے آئے ہیں کہ ایسا ہو تویوں ہو جاتا ہے، اس لئے ہم نے ایک چیز کو دوسری چیز کی علت فرض کرلیا۔ حالانکہ حقیقت میں اس کا علت ہونا ضروری نہیں اور دوسری طرف تم معجزہ کا انکار اس اساس پر کرتے ہو کہ یہ مشاہدہ اور تجربہ کے خلاف ہے۔ جب تمہارے نزدیک علیت و معلولیت کا کوئی قانون ہی نہیں، ہر چیز بغیر تحقیق علیت وقوع پزیر ہو رہی ہے۔ دوسری کسی چیز کے ساتھ ربط نہیں تو پھر اگر معجزہ کا وقوع ہوا جس کی ہم تعلیل کرنے سے قاصر ہیں تو کونسی قباحت ہو گئی۔ پہلے بھی جتنی چیزیں معرض وجود میں آئیں، وہ علت حقیقیہ کے بغیر موجود تھیں اور یہ امر بھی بغیر علت کے ظاہر ہوا، پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک تو تم تسلیم کرتے ہو اور دوسرے کے انکار میں اتنا غلو کرتے ہو کہ تمھیں اپنے فلسفہ کی بنیاد بھی سرے سے فراموش ہو گئی ہے۔ (قصۃ الفلسفۃ الحدیثہ جزو اول صفحہ نمبر ۲۴۵)
اور بعض صاحبان نے اپنے جذبہ تجسس کو یہ تھپکی دے کر سلا دیا کہ ان واقعات کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ یہ معجزات محض عقیدت مندوں کے جوش عقیدت کی کرشمہ سازیاں ہیں کہ انھوں نے معمولی عادی واقعات کو مبالغہ آمیزی سے اس طرح بیان کیا کہ انھیں خرق عادت بناکر رکھ دیا۔ جو لوگ تحقیق و جستجو کی خارزار وادیوں میں آبلہ پائی کی زحمت برداشت کرنا نہ چاہتے ہوں اور ان کے لئے محفوظ اور آسان ترین یہی طریقہ کار ہے، لیکن کیا یہ کسی مشکل کا حل ہے؟ یا اس سے کوئی عقدہ لاینحل کھل سکتا ہے؟ یہ غور طلب ہے۔

آخر میں میں ایک اہم مقالہ کی طرف اشارہ کرنے کی اجازت طلب کرتا ہوں۔ معجزات کے بارے میں جناب محترم سرسید احمد خاں نے ایک مفصل مقالہ لکھا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ معجزہ اس وقت تک معجزہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ قوانین قدرت کے خلاف نہ ہو کیونکہ اگر وہ کسی قانون قدرت کے مطابق ہوگا، تو اس کا ظہور نبی کے علاوہ کسی اور شخص سے بھی ہو سکتا ہے، اس لئے معجزہ کا خلاف قانون ہونا ضروری ہے۔ قانون قدرت اٹل ہے، ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا رد و بدل کا رونما ہونا قطعاً باطل ہے، کیونکہ نصوص قرآنیہ میں بار بار یہ تصریح کی گئی ہے کہ قانونِ قدرت میں تغیر و تبدل نہیں آسکتا، اس لئے ثابت ہوا کہ معجزہ کا وقوع باطل ہے۔
آپ نے سرسید محترم کا استدلال ملاحظہ فرما لیا! انھوں نے معجزہ کی من گھڑت تعریف کرکے معجزہ کا بطلان کیا ہے۔ حالانکہ ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ علمائے اسلام نے معجزہ کی یہ تعریف نہیں کی کہ وہ قوانین فطرت کے خلاف ہو بلکہ معجزہ وہ ہے جو خارق عادت ہو، نیز معجزات کو قوانین فطرت کے خلاف کہنے کا دعویٰ تو تب درست ہو سکتا ہے جب کہ پہلے تمام قوانین فطرت اور سنن الہیہ کا احاطہ کرنے کے دعویٰ کو کوئی ثابت کرلے اور جب تک یہ ثابت نہ ہو اور جو یقیناً ثابت نہیں تو پھر معجزات کو سنن الہیہ کے خلاف ٹھہرانا سراسر لغو ہوگا۔
بہرحال جو شخص اللہ تعالی پر ایمان رکھتا ہے، اس کے قادر مطلق ہونے کو تسلیم کرتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ اللہ تعالی بے بس تماشائی کی طرح اس ہنگامہ خیر و شر کو دور سے بیٹھا ہوا دیکھ نہیں رہا، بلکہ اس کے حکم، اس کی حکیمانہ تدبیر اور اس کے اذن سے نبض ہستی محو خرام ہے، اسے قطعاً ایسے معجزات کے بارے میں شک نہیں ہونا چاہئے جو صحیح اور قابل وثوق کے ذریعہ سے ثابت ہو چکے ہیں۔
قرآن کریم میں حضور سرور کائنات ؐکے اس عظیم ترین معجزۂ معراج کو جس مخصوص اسلوب سے بیان کیا گیا ہے، اس میں غور کرنے کے بعد عقل سلیم کو بلا چون و چرا ماننا پڑتا ہے کہ یہ واقعہ جس طرح آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں، وہ سچ ہیں، اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
واقعہ معراج کی اہمیت صرف اسی قدر نہیں کہ اس میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے اور برگزیدہ رسولﷺ کو زمین و آسمان بلکہ ان سے بھی ماورا اپنی قدرت و کبریائی کی آیات و بینات کا مشاہدہ کرایا بلکہ اس میں ستم رسیدہ اہل اسلام کیلئے بھی ایک مژدہ ہے کہ شب غم اب سحر آشنا ہونے والی ہے ۔ تمہارا آفتاب اقبال ابھی طلوع ہوا چاہتا ہے ۔ شرق و غرب میں تمہاری سطوت کا ڈنکا بجے گا لیکن مسند اقتدار پر متمکن ہونے کے بعد اپنے پروردگار کو فراموش نہ کرنا اس کی یاد اور اس کے ذکر میں غفلت سے کام نہ لینا اور اگر تم نے نشہ حکومت سے بدمست ہوکر نافرمانی اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو پھر ان کے ہولناک نتائج سے تمہیں دوچار ہونا پڑے گا ۔ دیکھو ! تم سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے فرعون کی غلامی اور ظلم و ستم سے نجات دی ، بحر احمر کو ان کے لئے پایاب کیا ، ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے جابر دشمن کو سمندر کی موجیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئیں لیکن جب انھیں عزت و وقار بخشا گیا تو وہ اپنے مالک حقیقی کے احکام سے سرتابی کرنے لگے اور اس کے انعامات کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے انھوں نے نافرمانی اور ناشکرگذاری کو اپنا شعار بنالیا تو ہم نے ان پر ایسے سنگدل دشمن مسلط کردیئے جنھوں نے ان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اور ان کے مقدس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ اس عبرت آموزی کیلئے واقعہ معراج کے بعد بنی اسرائیل کا ذکر فرمایا ۔
عشق کی اک جست نے طے کردیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں
علامہ اقبالؔ

TOPPOPULARRECENT