Thursday , November 23 2017
Home / جرائم و حادثات / فلموں میں کام کرنے کے شوق نے قاتل بنا دیا

فلموں میں کام کرنے کے شوق نے قاتل بنا دیا

شاہ عنایت گنج اغوا اور قتل کیس کے 3 ملزمین گرفتار
حیدرآباد۔ 20 مارچ (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ شاہ عنایت گنج سے دسویں جماعت کے طالب علم ابھئے مودھانی کے اغوا اور  قتل میں ملوث 3 خاطیوں کو واقعہ پیش آنے کے اندرون 48 گھنٹے گرفتار کرلیا گیا۔ کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر ایم مہیندر ریڈی نے اپنے دفتر واقع بشیرباغ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ٹاسک فورس کی ٹیموں نے ویسٹ زون پولیس کی مدد سے 15 سالہ طالب علم کے اغوا اور قتل کے معمہ کو کامیاب طریقہ سے حل کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھئے مودھانی کو مشرقی گوداوری سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ سیشا کمار عرف سائی رام عرف سائی نے 16 مارچ کی شام کو شاہ عنایت گنج کے علاقہ گھوڑے کی قبر کے قریب ابھئے مودھانی کا اغوا کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جرم کے ارتکاب کیلئے سائی نے اپنے دو ساتھی 21 سالہ پونڈارا روی اور 23 سالہ نامبوری موہن دونوں کا تعلق ضلع سریکاکلم سے ہے، کی مدد حاصل کی اور ابھئے کو منصوبہ بند طریقہ سے اغوا کرنے کے بعد کروڑہا روپئے کا تاوان کا مطالبہ کیا۔ مسٹر مہیندر ریڈی نے بتایا کہ سائی ہندی نگر میں ایک معمر شخص کی دیکھ بھال کی ملازمت کرتا تھا جس کے بدلے اسے 7,000/- روپئے کا معاوضہ ملتا تھا۔ سائی نے فیس بُک کے ذریعہ جاریہ سال فروری میں ایک مووی آرٹسٹ بالو پال سے رابطہ قائم کیا اور بعدازاں فلموں میں اداکاری کیلئے اپنا ارادہ ظاہر کیا جس پر بالو پال نے اس سے کہا کہ فلموں میں اداکاری کیلئے اسے بھاری رقم کی ادائیگی اور ڈانس میں مہارت حاصل کرنی ضروری ہے۔ سائی نے اپنے دو ساتھی روی اور موہن کو اس بارے میں بتایا جس پر انہوں نے بھی فلموں میں اداکاری کرنے کی خواہش ظاہر کی اور اس نے سریکاکلم سے حیدرآباد منتقل ہوکر ہندی نگر میں واقع ایک کرایہ کا مکان حاصل کیا۔ 14 مارچ کو تینوں ملزمین نے یو ٹیوب پر ایک رومانٹک کرائم مووی دیکھی جس سے رہزنی اور اغوا کا خیال انہیں آیا اور ابھئے قتل کیس کا کلیدی ملزم سائی نے اپنے دو ساتھیوں کو بتایا کہ وہ ایک صنعت کار کے بیٹے ابھئے مودھانی کو جانتا ہے جس کے اغوا سے وہ کروڑہا روپئے کی رقم حاصل کرسکتے ہیں۔ منصوبہ کے تحت سائی نے جگدیش مارکٹ عابڈس سے فرضی پتوں پر سم کارڈ حاصل کئے اور بیگم بازار سے پلاسٹر خریدا۔ منصوبہ کے تحت 16 مارچ کو لفٹ دینے کے بہانے سائی نے ابھئے کو اپنے کرایہ کے مکان لے گیا جہاں پر اس نے کولڈرنگ بھی پلائی اور اپنے دو ساتھی جو پہلے ہی سے وہاں موجود تھے، ابھئے کو اغوا کرنے کی اطلاع دی جس پر طالب علم نے اپنے باپ سے ربط کرنے کیلئے موبائیل فون نمبر بھی دیا۔ سائی اور اس کے دو ساتھیوں نے ابھئے کے ہاتھ پیر باندھنے کے بعد اس کے ناک اور منہ پر پلاسٹر چسپاں کردیاجس کے نتیجہ میں ابھئے دَم گھٹنے سے کچھ ہی لمحوں میں فوت ہوگیا۔ ملزمین ، مغویہ لڑکے کے باپ سے مسلسل 5 کروڑ روپئے کی رقم کا مطالبہ کررہے تھے ۔ ابھئے کی موت ہوجانے کے بعد وہ پریشان ہوگئے اور نعش کو ٹھکانے لگانے کیلئے اپنے مکان دار کی چھت پر موجود ٹی وی کے خالی کارٹون کو حاصل کرلیا اور نعش  چھپادینے کے بعد اسے آٹو ٹرالی میں سکندرآباد منتقل کرنے سے قبل جگدیش مارکٹ عابڈس سے نئے سِم کارڈس حاصل کئے جہاں پر تاخیر کے سبب آٹو ٹرالی ڈرائیور نے پارسل کو سکندرآباد لے جانے سے انکار کردیا جس کے نتیجہ میں وہ پیسنجر آٹو میں سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب منتقل کیا اور اسٹیشن کے اندر لے جانے میں ناکامی کے بعد انہوں نے الفا ہوٹل ، سکندرآباد کے قریب نعش کو پھینک کر وہاں سے ٹرین میں فرار ہوگئے۔ ٹاسک فورس ٹیموں نے خاطیوں کو بہرام پورہ اُڈیشہ اور سریکاکلم کے علاقہ اِچا پورم سے گرفتار کرلیا۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ اس کیس میں ملزمین کی سزا کو یقینی بنانے کے لئے پولیس نے اہم شواہد بشمول سی سی ٹی وی کے کئی فوٹیجس حاصل کرلئے ہیں جس میں سائی اپنے ہمراہ مغویہ لڑکے کو موٹر سائیکل پر لے جارہا تھا ۔کمشنر پولیس نے بتایا کہ فرضی پتوں پر سم کارڈس فروخت کرنے والے موبائیل فون ڈیلرس کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا جارہا ہے ، کیونکہ ملک کی داخلی سلامتی کیلئے ڈپارٹمنٹ آف ٹیلی کمیونکیشن کے قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT