Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / فلم ’’بلیک پینتھر‘‘ کیساتھ سعودی عرب میں سنیما کی واپسی

فلم ’’بلیک پینتھر‘‘ کیساتھ سعودی عرب میں سنیما کی واپسی

ریاض ۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جیسے ہی روشنیوں کو مدھم کرتے ہوئے ہالی ووڈ کی بلاک بوسٹر فلم ’’بلیک پینتھر‘‘ کا اعلان کیا گیا، سعودی عرب کے فلم ناظرین و شائقین خوشی سے جھوم اٹھے جوکہ سعودی عرب کے پہلے مووی تھیٹر میں ہوا حالانکہ شو کا اہتمام خانگی طور پر مدعو اہم شخصیات کیلئے کیا گیا تھا جو چہارشنبہ کی شام کو منعقد ہوا تھا۔ کئی سعودیوں کیلئے یہ کئی دہوں پر محیط نیا انقلاب تھا۔ یہ صدی کئی نئے انقلابات کی گواہ ہوگی جو سعودی عرب میں وقوع پذیر ہوچکے ہیں اور مستقبل میں بھی وقوع پذیر ہوں گے جیسے خواتین کو کار ڈرائیونگ کی اجازت، فیشن شوز اور خواتین کو اسٹیڈیمس میں داخلے کی اجازت وغیرہ ہیں۔ فلم پریمیئر میں موجود رہاف البہندی نے جذبات سے مغلوب ہوتے ہوئے کہا کہ حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ اذہان میں بھی تبدیلی واقع ہورہی ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے اطراف میں موجود دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے متعارف ہوتے ہوئے محظوظ ہوسکیں گے۔
جمال خشوجی نے جو سعودی مصنفہ ہیں نے 1970 کے تھیٹرس کو ناقابل اعتناء قرار دیا کیونکہ وہ صرف امریکیوں کیلئے ہوا کرتے تھے اور جس پر ’’مذہبی پولیس‘‘ کی کڑی نظر ہوا کرتی تھی۔
واشنگٹن پوسٹ نے ایک واقعہ کو تحریر کیا کہ اس کے ایک ساتھی نے مذہبی پولیس کی گرفتاری سے بچنے کیلئے اونچی دیوار سے چھلانگ لگادی تھی جس میں اس کا ایک پیر ٹوٹ گیا تھا اور 1980ء میں فلم کی نمائش خانگی طور پر ان کے اپنے خانگی کمپاونڈ میں کلچرل سنٹرس میں غیرملکیوں کیلئے کی گئی تھی جس کے غیرملکی سفارتخانے ذمہ دار ہوا کرتے تھے۔

TOPPOPULARRECENT