Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / فلم ’ میسنجر آف گاڈ ‘ پر تنازعہ در تنازعہ

فلم ’ میسنجر آف گاڈ ‘ پر تنازعہ در تنازعہ

چندی گڑھ۔ /16جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) مختلف تنظیموں کے ارکان نے آج متنازعہ فلم ’ میسنجر آف گاڈ ‘ کی نمائش کے خلاف ہریانہ کے امبالہ ٹاؤن میں احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ اس فلم میں ڈیرہ سچا سودہ کے کرتا دھرتا بابا گرمیت رام رحیم سنگھ کو ایک مقدس ہستی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم کی نمائش کیلئے منظوری حاصل ہونے کے بعد ہریانہ اور پنجاب

چندی گڑھ۔ /16جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) مختلف تنظیموں کے ارکان نے آج متنازعہ فلم ’ میسنجر آف گاڈ ‘ کی نمائش کے خلاف ہریانہ کے امبالہ ٹاؤن میں احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ اس فلم میں ڈیرہ سچا سودہ کے کرتا دھرتا بابا گرمیت رام رحیم سنگھ کو ایک مقدس ہستی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم کی نمائش کیلئے منظوری حاصل ہونے کے بعد ہریانہ اور پنجاب میں ضلع حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ امن و قانون کی برقراری کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ چندی گڑھ انتظامیہ نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ صورتحال پر سخت نگرانی رکھی جائے جبکہ شرومنی اکالی دل ( بادل ) ہریانہ سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی اور انڈین نیشنل لوک دل کے ارکان نے امبالہ میں گیلاکسی مال کے روبرو متنازعہ فلم کے خلاف احتجاجی نعرے بلند کئے اور کہا کہ اس فلم کی نمائش کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

تاہم ڈیرہ سچا سودا کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فلم دراصل منشیات کے خلاف ہے اور اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ دریں اثناء پنجاب فلم ڈسٹری بیوٹرس اسوسی ایشن نے بتایا کہ آئندہ ہفتہ سے فلم کی نمائش کی جائے گی چونکہ سنسر بورڈ نے اس فلم کی منظوری دے دی ہے۔ لہذا اس فلم کی نمائش کیلئے قطعی تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بعض سکھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ کے خلاف سنگین الزامات ہیں اور ان کی ستائش اور تعریف میں پیش کردہ فلم نمائش کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے۔

نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے بموجب حکومت نے آج سنسر بورڈ کی کارکردگی میں مداخلت کے الزام کی تردید کی ہے جبکہبورڈ کے صدر نشین لیلا سمین نے الزام عائد کرتے ہوئے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ فلموں کو سرٹیفکیٹس کی اجرائی کے معاملہ میں حکومت نے ہمیشہ فاصلہ برقرار رکھا ہے۔ صدر نشین سنسر بورڈ کا استعفی فلم میسنجر آف گاڈ پر تنازعہ کے پس منظر میں آیا ہے تاہم مملکتی وزیر اطلاعات و نشریات راج وردھن راتھوڑ نے یہ وضاحت کی کہ سنسر بورڈ کے صدر نشین اور ارکان کا تقرر پیشرو حکومت نے کیا ہے اس کے باوجود کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا اور متنازعہ فلم کی منظوری اپیلیٹیڈ ٹریبونل نے دی ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ جبکہ لیلا سمین نے الزام عائد کیا کہ حکومت سنسر بورڈ کو چیف ایکزیکیٹو آفیسر اور بعض بدعنوان ارکان کے ذریعہ کنٹرول کررہی ہے جس کے باعث فلموں کے سرٹیفکیٹس کی اجرائی میں اخلاقی گراوٹ آگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT