Tuesday , October 16 2018
Home / دنیا / فلوریڈا کی فائرنگ کے بعد اسکولس میں دھرنے اور ترک تعلق

فلوریڈا کی فائرنگ کے بعد اسکولس میں دھرنے اور ترک تعلق

زندہ بچ جانے والوں کی تنقید کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ ایف بی آئی سے رجوع

پارک لینڈ ۔ 18فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) فلوریڈا کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کے بعد جس میں 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے کئی طلبہ نے اسکول سے ترک تعلق کرلیا جب کہ دیگر افراد کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسکول کے احاطہ میں دھرنا دے رہے ہیں ۔ دھرنا دینے والوں میں پورے امریکہ کے گوشے گوشے کے افرادشامل ہیں ۔ ان کا مقصد ارکان مقننہ پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ بندوق کے بارے میں قوانین میں ترمیم کی منظوری دیں ۔ ان دھرنا دینے والی تنظیموں کے پس پردہ خواتین کا جلوس ہے جس نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا تھا اور خواتین کیلئے زیادہ اختیارات کا مطالبہ کیا تھا ۔ وسائل کے بموجب بندوق کے موجودہ قوانین کی وجہ سے اسکولس اور رہائشی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔قبل ازیں واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب فلوریڈا میں فائرنگ کا نشانہ بننے والے اسکول کے طلبا نے اسلحہکے استعمال کے خلاف ریلی نکالی۔متاثرہ اسکول کے طلبائ،ان کے والدین اور اساتذہ نے ریلی میں شرکت کی ،ان کا کہنا تھا کہ رائفل اسوسی ایشن سے فنڈز لینے والے سیاستدانوںکو شرم آنی چاہئے ۔ریلی کے دوران شرکاء نے صدرٹرمپ کے نیشنل رائفل سوسی ایشن سے رابطوں پر’شرم کرو’کے نعرے بھی لگے ۔فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں چہارشنبہ کے روز نکولس کروز نے ہائی اسکول میں داخل ہو کر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 17افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی ایف بی آئی نے اعتراف کیا ہے کہ اسے فلوریڈا فائرنگ میں ملوث ملزم کے بارے میں ایک ماہ قبل معلومات ملی تھیں مگر وہ بروقت اقدام کرنے میں ناکام رہے ۔امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج کہا کہ وہ روس کے خلاف تحقیقات میں اتنا مصروف تھے کہ انہوں نے ان علامتوں پر توجہ نہیں دی جن کے نتیجہ میں پارک کے اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ انہوں نے اسکول میں فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کا ایف بی آئی کو حکم دے دیا ہے ۔ ایف بی آئی نے اعتراف کیا کہ اسے جنوری میں ایک شخص کی جانب سے مکتوب وصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بندوق بردار نکولس کروز فائرنگ کا منصوبہ بنارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT