Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / فلپائن دولت اسلامیہ غیر ملکی رکن پولیس سے تصادم میں ہلاک

فلپائن دولت اسلامیہ غیر ملکی رکن پولیس سے تصادم میں ہلاک

MANILA, JAN 8 :- Maria Isabelita Espinosa, mother of teenager Sonny Espinosa, who according to the police is one of the seven people shot dead by suspected vigilantes at a house storing illegal narcotics, cries during her son's funeral in Caloocan city, Metro Manila, Philippines January 8, 2017. REUTERS-19R

مسلم عسکریت پسند گروپ کے ساتھ تصادم ‘ برطانوی شادہ شدہ خاتون کیلئے دولت اسلامیہ کارکن مشرف بہ اسلام

منیلا۔8جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) پولیس نے ایک غیر ملکی شورش پسند کو دولت اسلامیہ حامی گروپ کے ساتھ جنوبی فلپائن میں جھڑپ کے دوران ہلاک کردیا ۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ اُس وقت شروع ہوا جب انصارالخلافت فلپائن کے ارکان کی تلاش کے دوران پولیس کے ساتھ اس گروپ کی جنوبی شورش زدہ جزیرہ منڈ اناؤ میں جھڑپ ہوگئی ۔ مقامی پولیس کے ترجمان سپرنٹنڈنٹ رومیو گالگو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایک غیر ملکی شہری جس کی شناخت ابتداء میں ابونائیلا کی حیثیت سے کی گئی تھی اور ایک خاتون رکن جس کی شناخت بحیثیت خدیجہ کی گئی ہے گرفتاری سے بچنے کیلئے پولیس پر دستی بم پھینکنے کی کوشش کررہے تھے ۔ پولیس نے جواب میں فائرنگ شروع کردی جس کی وجہ سے دونوں ہلاک ہوگئے ۔ عہدیداروں نے ابو نائیلا کی قومیت کا انکشاف نہیںکیا ہے ‘ حالانکہ ماضی میں ان کا کہنا تھا کہ اے کے پی غیر ملکی عسکریت پسندوں کے ساتھ کام کررہا تھا ۔ جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے انتہا پسند فلپائن کو مقامی جنگجوؤں کو تربیت دینے کیلئے خاص طور پر دھماکو مادوں کے استعمال کی تربیت کیلئے مشہور ہے ۔

اے کے پی ان کئی پُرتشدد اسلامی عسکریت پسند گروپس میں سے ایک سے تعلق رکھتا تھا جو منڈ اناؤ میں سرگرم ہیں ۔ یہ علاقہ فلپائن کی مسلم اکثریت کی غالب آبادی والا علاقہ ہے جہاں 10سال سے علحدہ کے لئے بغاوت جاری ہے جس میں تاحال 1,20,000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ حکومت اس گروپ کے ارکان کی تلاش میں ہے جب کہ اس کے بانی اور قائد محمد جعفر مقیت کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ یہ گروپ سیاہ پرچم لہراتا ہے جو دولت اسلامیہ کا پرچم ہے ۔ مقیت کی ایک ویڈیو فلم گذشتہ سال سوشل میڈیا پر گشت کررہی تھی جس میں مقامی عسکریت پسند گروپ کو دولت اسلامیہ سے الحاق کا ادعا کرتے دکھایا گیا تھا ۔ لندن سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایک سفید فام امریکی مشرف بہ اسلام ہوگیا تھا اور دولت اسلامیہ کا صف اول کا جنگجو بن گیا تھا اور انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں سے ایک تھا ۔ اُس نے ایک برطانوی مسلم خاتون سے شادی کرلی ۔ جان جارج لاس نے اپنا نام یحیی ابو حسن رکھ لیا ہے ۔ خاموشی سے لنکاشائر کا ایک قصبہ میں زویا چودھری سے شادی کرلی ۔ جب کہ اس کے خاندان نے اس شادی کی منظور نہیں دی تھی ۔ دونوں کی ملاقات آن لائن ہوئی تھی جب کہ زویا چودھری 19سال کی کالج طالبہ تھی ۔جارج لاس نے اپنی برطانوی بیوی زویا چودھری کو اپنے تین کمسن بیٹوں کے ساتھ دولت اسلامیہ میں شمولیت کی ترغیب دی جب کہ موجودہ 33سالہ زویا چودھری کو چوتھی بار حمل قرار پایا تھا ‘ وہ شام سے فرار ہونے اور جارج لاس کوطلاق دینے میں کامیاب ہوگئی ۔ جارج لاس اب دولت اسلامیہ کا سرگرم کارکن ہے جو دولت اسلامیہ کے فلسفہ کی تشہیر کرتا ہے اور امریکی حکومت کے سرکاری عہدیداروں کی واجب القتل افراد کی فہرست تیار کرنے میں ملوث ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT