Monday , February 19 2018
Home / شہر کی خبریں / فلک نما اور چنچل گوڑہ میں قائم کردہ گورنمنٹ ڈگری کالجس کی حالت زار

فلک نما اور چنچل گوڑہ میں قائم کردہ گورنمنٹ ڈگری کالجس کی حالت زار

ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے عدم تقررات ، بنیادی سہولتیں بھی نہیں ، طلباء پریشان حال
حیدرآباد ۔ 22 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ نے جاریہ سال فروری میں پرانے شہر کے فلک نما اور چنچل گوڑہ کے علاقہ میں ڈگری کالجس کو قائم کیا جس کے بعد تعلیمی سال 2017-18 میں 200 سے زائد طلباء و طالبات نے داخلہ لیا ہے ۔ یہ طلباء اب ان کالجوں میں داخلہ لینے کو اپنی بدقسمتی تصور کررہے ہیں ۔ ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے کیوں کہ تعلیمی سال کا آغاز ہوئے 4 ماہ سے زائد کا وقت گذر چکا ہے اور جاریہ ماہ کے آخر میں پہلے سمسٹر کے امتحان منعقد ہونے والے ہیں ۔ لیکن اب تک بھی ان کالجوں میں تدریسی عملہ کا تقرر عمل میں لایا اور نہ ہی بنیادی سہولیات مہیا کیں ۔ چنچل گوڑہ میں مقامی ایم ایل اے نے طلباء کو بیٹھنے کے لیے فرنیچر فراہم کی ہیں جب کہ دوسری طرف فلک نما ڈگری کالج کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مقامی ایم ایل اے جو کہ پارٹی کی طرف سے ایوان اسمبلی میں قائد مقننہ بھی ہیں ان کو اس کالج سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اس کے قیام کے بعد سے انہوں نے ایک مرتبہ بھی اس کالج کی حالت معلوم کرنا گوارہ نہیں سمجھا ۔ فلک نما ڈگری کالج ، فلک نما بوائز ہائی اسکول کی عمارت کے صرف تین کمروں میں چل رہا ہے ۔ جب کہ دو سو سے زائد طلبہ وطالبات نے اس کالج میں داخلہ لیا ہے ۔ ان طلباء کو بیٹھنے کے لیے بنچ تک میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ فرش پر بیٹھنے کے لیے مجبور ہیں ۔ کسی بھی شعبہ میں تدریسی عملہ موجود نہیں ہے ۔ پینے کے پانی کی سہولت بھی نہیں ہے ۔ کالج میں مسلم طالبات کی کثرت ہے ان کے بیت الخلاء کی سہولت بھی موجود نہیں ہے ۔ مقامی ایم ایل اے کی عدم توجہی یہ ثابت کررہی ہے کہ اگر پرانے شہر کی عوام تعلیم یافتہ ہوجائے تو ان کا ووٹ بینک خراب ہوجائے گا ۔ حکومت نے ان کالجوں کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپئے منظور کئے ہیں ۔ لیکن تعمیری کاموں کے لیے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔ اگر ان پیسوں کا استعمال وقت پر نہیں کیا گیا تو ماہ فروری میں یہ رقم واپس خزانہ میں چلی جائے گی ۔ اس کے بعد پھر قائد مقننہ اپنی تقریروں میں حکومت کو کوسنا شروع کردیں گے اور عوام کی ہمدردی حاصل کر کے ووٹ بٹوریں ۔ اس طرح طلباء کا مستقبل تاریک ہوجائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT