Saturday , December 15 2018

فلک کے تارے

ان کاغذوں پر کیا ہے یہ حرف تم بھی جانو
یہ بھی نظم پڑھو تم یہ قول سارے مانو
دشمن کسی کو بچو ہرگز نہ تم بناؤ
بیمار گر ہو دشمن تم اس کے پاس جاو
کوئی برائی دل میں اپنے نہ تم بساؤ
سادہ سی بات کر کے ہر اک کا دل لبھاؤ
بھٹکے جو منزلوں سے تم راستہ دکھاؤ
نیکی ہے کام افضل ہر اک کے کام آؤ
مانباپ جب بھی ڈانٹیں کچھ بھی نہ ان سے کہنا
غصہ حرام بچو ، غصے سے دور رہنا
تم چاند آسماں کے ، تم ہو فلک کے تارے
تم قوم کے بہادر ، ملت کے ہو سہارے
ہر سمت ہو اُجالا ہر سمت روشنی ہو
دشمن کی سب صفوںمیں ہر سمت بے بسی ہو
کشتی کسی کی ڈوبے تم کو وہ جب پکارے
اس کی مدد کرو تم لگ جائے وہ کنارے
ڈھونڈو چراغ لے کر نیکی کے کام بچو
خدمت کرو سبھی کی ہر صبح و شام بچو
حاصل علم کی دولت کرلو گے جب ہی بچو
منزل مراد اپنی پالو گے تب ہی بچو
ہمسایوں سے اپنے دیکھو کبھی نہ لڑنا
ہر بات ان سے بچو نرمی سے تم ہی کرنا
آؤ کہ سب ہی ملکر جیون کو یوں سدھاریں
مہکیں گلوں سے گلشن ، گلشن میں ہوں بہاریں
اپنا مقام پائیں دھرتی کو یوں سنواریں
دشمن کے واسطے ہوں لوہے کی ہم دیواریں
جب تک رہیں گے مل کر دشمن بھی خاک ہوگا
اس گھر کا کونہ کونہ دشمن سے پاک ہو
ان کاغذوں پر کیا ہے یہ حرف تم بھی جانو
یہ بھی نظم پڑھو تم یہ قول سارے مانو
٭٭٭٭٭

TOPPOPULARRECENT