Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / فنڈس میں اضافہ کا الزام غلط، معاملہ عدالت میں زیرالتواء

فنڈس میں اضافہ کا الزام غلط، معاملہ عدالت میں زیرالتواء

میڈیا کے سوالات پر سہارا انڈیا پریوار کی وضاحت

حیدرآباد ۔ 27 مئی (پریس نوٹ) سہارا انڈیا پریوار کے صدرنشین سبروتو رائے سہارا نے سہارا کے ملازمین، سرمایہ کاروں سے اظہار شکرمندی کیلئے ’’ابہار یاترا‘‘ کا آغاز کیا ہے۔ مختلف مقامات پر میڈیا کی جانب سے سہارا انڈیا پریوار کو سہارا کے موجودہ حالات پر مختلف سوالات کا سامنا رہا۔ صدرنشین سبروتو رائے نے سہارا انڈیا پریوار کے سینکڑوں ملازمین، سرمایہ کاروں کو شلپا کلا ویدیکا ہائی ٹیک سٹی حیدرآباد میں خطاب کیا۔ میڈیا کی جانب سے بارہا کئے گئے سوالات کا سہارا انڈیا پریوار نے جواب دیا ہے۔ ان سوال و جواب کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ اس سوال پر کہ سہارا گروپ قانون شکنی کے ذریعہ اس کے فنڈس میں اضافہ کیوں درج کردیا ہے؟ آیا یہ سہارا کے لئے ایک مسئلہ تو نہیں ہے؟ اس پر صدرنشین سہارا نے کہا کہ یہ معاملہ معزز عدالت میں زیرالتواء ہے۔ ہم اس کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے۔ تاہم یہ الزام بالکل غلط ہے۔ سال 2006 میں ہم نے 1.98 کروڑ اور ایف سی ڈی کیلئے درخواست داخل کی تھی۔ سال 2008ء میں سہارا کو رجسٹرار آف کمپنیز یو پی، مہاراشٹرا کی جانب سہارا انڈیا ریئل اسٹیٹ کارپوریشن لمیٹیڈ اور ایس ایچ آئی سی ایل کے فنڈس میں اضافہ کی تحریری اجازت موصول ہوئی۔ اس تنازعہ کی ابتداء میں اس وقت کے مرکزی وزیر قانون ویرپاموئیلی، سابق چیف جسٹس آف انڈیا اے ایم احمدی، سابق چیف جسٹس آف انڈیا موہن پرسارن، سابق سالیسیٹر جنرل آف انڈیا اشوک نگم و دیگر  ماہرین قانون نے ایس آئی آر ای سی ایل، ایس ایچ آئی سی ایل کے موقف کو درست اور ایس ای بی آئی کو غلط ٹھہرایا تھا۔ اس سوال پر کہ ایس ای بی آئی کو زائد رقم کیوں ادا کی جارہی ہے۔ اس طرح سرمایہ کاروں کو زائد رقم ادا کی جاسکتی ہے۔ پرسہارا انڈیا پریوار گروپ نے بتایا کہ گذشتہ 43 ماہ ایس ای بی آئی نے سرمایہ کاروں کو صرف 50 کروڑ دوبارہ ادا کئے ہیں۔ ملک کے اخبارات میں دوبارہ ادائیگی کی خبریں گشت کرنے کے بعد سیبی کی ادائیگی صرف سو کروڑ تک محدود رہی جبکہ ہم نے ایف ڈیز پر زائد آمدنی کے ساتھ سیبی کو 14 ہزار کروڑ فراہم کئے تھے۔ اس کے علاوہ سیبی کے پاس سہارا کی اراضی جائیداد کی مالیت 20 ہزار کروڑ کے اصل دستاویزات موجود ہے۔ اس سوال پر کہ ان معاملات میں سہارا سری سبروتو رائے کے دعویٰ کی سہارا پریوار انڈیا کس طرح تائید کرتا ہے کہ سہارا سری قابل گرفتار اس پر بتایا گیا کہ ہمارے قانونی ماہرین کی نظر میں سہارا سری ان دو کمپنیوں میں نہ ہی ڈائرکٹر ہیں اور نہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ صرف ایک شیر ہولڈر ہیں۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح ہے اور ایک شیرہولڈر کو کمپنی انجام دیئے گئے غلط کاموں کے سبب گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس سوال پر کہ کوئی مجسٹریٹ کسی پروموٹر شیرہولڈر کو گرفتار کرسکتا ہے؟ اس سوال پر بتایا گیا کہ گذشتہ 30 ماہ سے تمام سہارا گروپ ایک کشمکش سے دوچار ہے۔ اگر ہم کسی اثاثہ کو فروخت کرتے یا گروی رکھتے ہیں اس فنڈس میں اضافہ کرتے ہیں تب تمام رقم ایس ای بی آئی سہارا کھاتے میں جاتے ہیں۔ لہٰذا ہم گروپ میں ایک روپیہ اضافہ نہیں کرسکتے۔ ہمارے لئے یہ ایک مشکل گھڑی ہے۔ سہارا گروپ کچھ کرنا چاہتا ہے تاہم اس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT