Sunday , September 23 2018
Home / Health / فوائد سے بھرپور، پھلوں کا بادشاہ آم

فوائد سے بھرپور، پھلوں کا بادشاہ آم

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ بلا وجہ نہیں، آم کھانے کے اتنے فوائد ہیں کہ انہیں شمار کرنا مشکل ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ وٹامن ای سے بھرپور ہے جو جلد کو ترو تازہ رکھتی ہے اور چہرے پر دانے نہیں نکلنے دیتی جبکہ وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتی ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے بینائی کو کمزور نہیں ہونے دیتی۔ قدرتی مٹھاس

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ بلا وجہ نہیں، آم کھانے کے اتنے فوائد ہیں کہ انہیں شمار کرنا مشکل ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ وٹامن ای سے بھرپور ہے جو جلد کو ترو تازہ رکھتی ہے اور چہرے پر دانے نہیں نکلنے دیتی جبکہ وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتی ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے بینائی کو کمزور نہیں ہونے دیتی۔ قدرتی مٹھاس کی مناسب مقدار ہے جو شوگر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نہیں۔ آم کے ریشے جنہیں فائبر کہا جاتا ہے آنتوں کی صفائی کرتے ہیں اور نظام ہضم کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں اینٹی اوکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو آنتوں اور خون کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

کچا اور پکا ہوا آم دونوں صورتوں میں طبی افادیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ کچا آم ترش‘ قابض اور دافع سکروی ہوتا ہے۔ کچے آم کا چھلکا قابض اور مقوی ہوتا ہے۔ آم کے پیڑ کی چھال بھی قابض اور نسجی بافتوں کیلئے مسکن ہوتی ہے۔ آم کا اچار پورے برصغیر میں بہت مقبول اور مرغوب ہے لیکن اگر یہ بہت کٹھا‘ مصالحے دار اور بہت زیادہ تیل میں ڈوبا ہوا ہو تو صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ جو لوگ جوڑوں کی سوزش اور درد میں مبتلا ہوں انہیں خاص طور پر اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ناک کی ہڈی کی سوزش‘ گلے کی خراش اور تیزابیت کے شکار لوگوں کو اچار سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
پکا ہوا آم دافع سکروی ‘ پیشاب اور ملین‘ مقوی اور وزن بڑھانے والا پھل ہے۔ یہ دل کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے۔ رنگت صاف کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔ اس کا استعمال بدن میں سات چیزوں کو بنانے میں مدد دیتا ہے۔ معدے کی ہضم کرنے والی رطوبت‘ خون‘ چربی‘ ہڈیوں کا گودا اور مادہ منویہ بڑھاتا ، آم کا پھل جگر کی خرابیوں‘ وزن کی کمی اور دیگر جسمانی بے قاعدگیوں کو بھی دور کرتا ہے۔

کچے آم کے فوائد
لو لگنا : ادھورا پکا ہوا آم دھوپ کی حدت اور گرم ہوا کے اثرات کو ختم کرتا ہے۔ نیم پختہ یعنی کچے پکے آم کو گرم راکھ میں پکا کر اس کے گودے کو پانی اور چینی میں ڈال کر ایک مشروب تیار کرلیا جاتا ہے۔ یہ مشروب ہیٹ اسٹروک یعنی لو لگنے کے بداثرات دور کرنے میں انتہائی موثر ہے۔ کچے آم کو نمک لگا کر کھانا پیاس کی شدت مٹاتا ہے۔ اس کا استعمال گرمیوں میں اضافی پسینے سے سوڈیم کلورائیڈ کی کمی کو دور کرتا ہے۔

معدے اور انتڑیوں کی بے قاعدگیاں
کچے سبز آم معدے اور انتڑیوں کے علاج کیلئے بہت مفید ہیں۔ ایک یا دو کچے آم جن کی گٹھلی ابھی پوری طرح نہ بنی ہو نمک اور شہد کے ساتھ کھانا گرمی‘ اسہال‘ پیچش‘ بواسیر‘ صبح کے اضمحلال‘ پرانی بدہضمی‘ فساد ہضم اور قبض کیلئے بہت موثر علاج ہے۔
کچے آم صفراوی بیماریوں میں بھی عمدہ علاج بالغذا ہیں۔ کچے آم میں پائے جانے والے ایسڈز صفراء کا اخراج بڑھا دیتے ہیں اور انتڑیوں کے لئے جراثیم کش مادے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کچے آم روزانہ شہد اور کالی مرچ کے ساتھ کھانا صفراء سے نجات دیتا ہے۔ بیکٹیریا کی وجہ سے پروٹین کے جزو بدن نہ بننے کی کیفیت ، یرقان اور چھپاکی میں بھی موثر رہتا ہے۔ کچے آم کا مذکورہ استعمال جگر کو تقویت دیتا ہے اور اسے صحت مند رکھتا ہے۔

خون کی بیماریاں
کچا سبز آم وٹامن سی کی وافر مقدار کے سبب خون کے امراض کا بھی کارگر علاج ہے۔ یہ خون کی نالیوں کی لچک میں اضافہ کرتا ہے اور خون کے نئے خلیے بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے غذائی فولاد (فوڈ آئرن) کا انجذاب بڑھتا ہے جبکہ خون کا اخراج رکتا ہے۔ یہ تپ دق‘ انیمیا‘ ہیضہ اور پیچش کے خلاف بدن میں مزاحمت بڑھاتا ہے۔

بالوں کی سیاہی کیلئے
کچے آموں کو تل کے تیل میں ڈال کر ہمراہ سیاہ بکھڑے کے شیرے وزن بالترتیب ایک کلو آدھ پاؤ تیل اور ایک پاؤ شیرہ کسی لوہے کے برتن میں ڈال کر منہ بند کر کے چار ماہ تک زمین میں دفن کر کے نکال کر تھوڑا تھوڑا روزانہ کھانے سے سفید بال سیاہ ہوجاتے ہیں۔

پکے آم کے فوائد
آنکھوں کی بیماریاں
شب کوری یعنی رات کو نظر نہ آنے یا کم روشنی میں دیکھ نہ سکنے کے مرض میں پکا ہوا آم بہترین علاج ہے۔ یہ مرض وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ یہ مرض غریب والدین کے بچوں میں غذائیت کی کمی کے سبب بہت عام ہے۔ آم کے موسم میں ان کا خوب استعمال اس مرض کے تدارک میں معاون رہتا ہے۔ ان کا استعمال کئی اور امراض چشم کو بھی دور کرتا ہے جو انجام کار مکمل اندھے پن کی طرف لے جاتے ہیں۔ آموں کا وافر استعمال بھینگے پن‘ آنکھوں کی خشکی‘ قرنیہ کی نرمی اور آشوب چشم کے امراض کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

انفیکشن
تمام بیکٹیریا کا حملہ اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ جسم کی خارجی تہہ بنانے والی بافتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ آم کے موسم میں اس کا آزادانہ استعمال بافتوں کی اس کمزوری کو دور کرتا ہے۔ چنانچہ بیکٹیریا کا جسم میں داخلہ ممکن نہیں رہتا۔ اس کیفیت کے بعد پے درپے انفیکشن مثلاً نزلہ‘ زکام اور ناک کے استرگی سوزش رونما نہیں ہوتی۔ اس تحفظ کی وجہ آم میں پائی جانے والی وٹامن اے کی وافر مقدار ہے۔

وزن کی کمی
وزن میں کمی کی صورت میں آم اور دودھ کا استعمال زبردست اور مثالی علاج ہے۔ اس انداز کے علاج کیلئے ہمیشہ خوب پکے ہوئے اور میٹھے آموں کا انتخاب کرنا چاہیے اور انہیں دودھ کے ساتھ دن میں تین بار یعنی صبح‘ دوپہر اور شام لینا چاہیے۔ پہلے آم کھائیں اور اس کے بعد دودھ پئیں۔ چونکہ آم میں بذات خود وافر مقدار میں شکر ہوتی ہے اس لیے دودھ چینی کے بغیر پئیں۔ آم میں شکر تو ہوتی ہی ہے لیکن پروٹین کی کمی ہوتی ہے۔ دوسری طرف دودھ میں پروٹین ہوتی ہے لیکن شکر نہیں ہوتی۔ اس طرح ان دونوں کا امتزاج ایک دوسرے کی کمی دور کردیتا ہے۔ کم از کم ایک ماہ استعمال کریں۔

ذیابیطس
ذیابیطس کے مرض میں آم کے پیڑ کے نوخیز پتے بہت مفید سمجھے جاتے ہیں۔ تازہ پتوں کو رات بھر پانی میں بھگوئے رکھنے کے بعد صبح پانی کو چھاننے سے پہلے یہ پتے اسی پانی میں اچھی طرح نچوڑ لیے جائیں۔ یہ مشروب روزانہ صبح پینے سے ذیابیطس کے مرض پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس مشروب کے متبادل کے طور پر تازہ پتوں کو سائے میں خشک کرلیا جاتا ہے۔ پھر ان کا سفوف بنا کر محفوظ کرلیتے ہیں۔ یہ سفوف دن میں دو بار یعنی صبح و شام آدھا چائے کا چمچہ پانی کے ساتھ استعمال کرنا انتہائی مفید ہے۔

تپ دق سے نجات کیلئے
تازہ آموں کا رس 20 تولہ شہد پانچ تولہ ملا کر صبح شام استعمال کریں اور دن رات میں کم از کم تین بار گائے یا بکری کا دودھ 21 دن تک استعمال کرنے سے تپ دق کے لاعلاج مرض سے بھی مریض صحت یاب ہوجاتا ہے۔

گلے کی بیماریاں
آم کی چھال خناق اور گلے کی دیگر بیماریوں کے علاج میں کارآمد ہے۔ اس کا سیال بیرونی مالش اور غراروں کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ غرارے کرنے کیلئے بنایا جانے والا مشروب 125 ملی لٹر چھال کو ابال کر بنایا جاتا ہے۔

بچھو کا ڈنک
آم کا پھل توڑتے کے وقت شاخ سے جو رس نکلتا ہے اسے بچھو کے ڈنک پر لگایا جائے تو فوراً درد دور ہوجاتا ہے۔ شہد کی مکھی کے ڈنک پر بھی اس رس کا استعمال کیا جاسکتا ہے- اس لیے رس جمع کر کے بوتل میں محفوظ کرلینا چاہیے۔
جامن آم کا مصلح
آم کھانے کے بعد جامن کھا لینے سے آم جلد ہضم ہوجاتے ہیں کیونکہ جامن آم کا مصلح ہے۔

TOPPOPULARRECENT