Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / فوجی سربراہ کے تقرر پر سیاسی تنازعہ

فوجی سربراہ کے تقرر پر سیاسی تنازعہ

اہم شعبوں میں بھی سیاست ، مودی سے کانگریس کی وضاحت طلبی ، بی جے پی کی مدافعت
نئی دہلی ۔ 18ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) فوج کے نئے سربراہ کے تقرر پر ایک نیا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا اور کانگریس و دیگر اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے دو سینئر عہدیداروں کو نظرانداز کرنے کی وجہ جاننا چاہی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو یہ وجوہات بتانی چاہئیے ۔ اپوزیشن کی تنقیدوں کے دوران حکومت نے لیفٹننٹ جنرل بپن راوت کے بحیثیت فوجی سربراہ تقرر کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کا غیرمعمولی تجربہ اور صلاحیت کے باعث یہ انتخاب عمل میں لایا گیا ۔ کانگریس کے قائد منیش تیواری نے حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’ اداروں سے کھلواڑ ‘‘ کررہی ہے اور فوج کے سربراہ کے تقرر کو بھی سیاسی بنادیا گیا ہے ۔ انہوں نے اظہار حیرت کیا کہ کیا من مانے انتخاب کیا جارہا ہے۔  حکومت کی جانب سے نائب چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل بپن راوت کو دو سینئر عہدیداروں ایسٹرن آرمی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل پراوین بخشی اور صدر آرمی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل پی ایم ہریز کو نظرانداز کرتے ہوئے سربراہ فوج مقرر کیا گیا ۔ سی پی آئی قائد ڈی راجہ نے بھی حکومت کے اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کیا فوج ‘ عدلیہ اور سی وی سی میں بی جے پی من مانے تقررات کررہی ہے ۔ کارگذار سی بی آئی ڈائرکٹر اور سنٹرل انفارمیشن کمیشن متنازعہ بن چکے ہیں ۔ بی جے پی نے کانگریس کی حکومت پر تنقید کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی افواج پر کانگریس کو سیاست نہیں کرنی چاہیئے ۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری سریکانت شرما نے کہا  کہ نئے سربراہ فوج کا انتخاب پانچ سینئر ترین عہدیداروں میں سے کیا گیا ہے ۔ تمام کے تمام عہدے کے قابل تھے لیکن لیفٹننٹ جنرل راوت کا تقرر دوسروں کی قابلیت کی تردید نہیں ہے ۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ فوج میں تقررات متنازعہ بن چکے ہیں ۔ عدلیہ اور سی آئی سی میں تقررات پہلے ہی متنازعہ بن گئے تھے ۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ نے کہا کہ ان حالات میں جب کہ گذشتہ ڈھائی سال سے انتقامی کارروائی جاری ہے ۔ حکومت پست ترین سطح تک پہنچ کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT