Wednesday , December 12 2018

فوجی عدالتوں کے سزاء یافتہ افراد کو اپیل کا حق پاکستانی سپریم کورٹ میں درخواست مفادعامہ

اسلام آباد ۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وفاقی حکومت نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق دائر درخواستوں پر ایک متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت دینے جانے کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی واپس لے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 1

اسلام آباد ۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وفاقی حکومت نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق دائر درخواستوں پر ایک متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت دینے جانے کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی واپس لے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی گذشتہ سماعت کے دوران فوجی عدالتوں کی طرف سے سات مجرموں کو سزا دینے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ ان میں سے چھ افراد کو سزائے موت جبکہ ایک کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔منگل کے روز وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل کی وساطت سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سزا پانے والے افراد کو فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ہے۔اس کے علاوہ اپیل مسترد ہونے کی صورت میں وہ صدر کو رحم کی اپیل بھی کر سکتے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام مراحل چھ ماہ کی مدت میں مکمل ہوں گے جس کے بعد ان سزاؤں پر عمل درآمد ہو گا۔اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ جو افراد دہشت گردی میں ملوث ہیں اْنھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

TOPPOPULARRECENT