Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / فوجی علاقہ میں زندہ جلادیا گیا کمسن طالب علم فوت

فوجی علاقہ میں زندہ جلادیا گیا کمسن طالب علم فوت

جلوس جنازہ میں سینکڑوں افراد کی شرکت ،عوام کی شدید برہمی، فوجی جوانوں کیخلاف قتل کیس درج

جلوس جنازہ میں سینکڑوں افراد کی شرکت ،عوام کی شدید برہمی، فوجی جوانوں کیخلاف قتل کیس درج
حیدرآباد۔/9اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدیق نگر فرسٹ لانسرز میں فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر زندہ جلائے جانے والا دینی مدرسہ محمدیہ کے کمسن طالب علم شیخ مصطفی الدین آج دواخانہ میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔واضح رہے کہ کل فرسٹ لانسر میں دو نامعلوم فوجی جوانوں نے شیخ مصطفی الدین کو کیروسین ڈال کر زندہ جلادینے کی کوشش کی تھی جس میں وہ 90فیصد جھلس گیا تھا۔ کنچن باغ میں واقع اپولو ڈی آر ڈی او میں آج صبح 8:50 بجے لڑکے نے آخری سانس لی۔ کمسن لڑکے کے انتقال پر صدیق نگر میں رنج و غم کی شدید لہر دوڑ گئی اور وہاں پر آج صبح سے ہی ماحول کشیدہ ہوگیا ۔ لڑکے کی موت کی اطلاع پر حیدرآباد پولیس اچانک چوکس ہوگئی اور کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے موثر بندوبست کیا گیا جبکہ لڑکے کے انتقال کے کچھ دیر بعد ہی نعش کو دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ منتقل کردیا گیا جہاں پر فارنسک ماہرین کی ایک ٹیم نے تحصیل دار کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا اور اس کارروائی کی ویڈیو گرافی بھی کی گئی ۔ بعد ازاں نعش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔ صدیق نگر کو نعش کی منتقلی کے بعد مقامی عوام میں غم اور برہمی دیکھی گئی جس کے پیش نظر پولیس نے تدفین کے موقع پر بھاری پولیس فورس کو متعین کردیا تھا۔جلوس جنازہ کے راستہ میں ریاپڈ ایکشن فورس اور ٹاسک فورس عملہ کو متعین کرتے ہوئے چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ آج بعد نماز ظہر صدیق نگر میں واقع مسجد میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور فرسٹ لانسرز کے مقامی قبرستان میں تدفین کیلئے جنازہ کو لیجایا جارہا تھا کہ جنازہ میں شریک افراد نے ’’ شہید مصطفی کا انصاف کرو‘‘ کے نعرے لگائے اور محبوب ہوٹل کے قریب جنازہ کو سڑک پر رکھ کر فوجیوں کی بربریت کے خلاف دھرنا اور راستہ روکو منظم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس فوری حرکت میں آگئی اور جنازہ کو آگے بڑھا دیا۔ شیخ مصطفی الدین کے جنازہ میں صدیق نگر کے علاوہ دیگر اطراف اکناف کے سینکڑوں افراد نے بلا لحاظ مذہب و ملت شرکت کی۔ قبل ازیں آج صبح مقام واردات پر سٹی پولیس کا سراغ رساں دستہ کلوز ٹیم نے پہنچ کر وہاں کا دوبارہ معائنہ کیا اور وہاں سے چند شواہد بھی اکٹھا کئے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی محکمہ جاتی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور ڈیوٹی پر متعین عملے سے متعلق تمام تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ شیخ مصطفی الدین کی موت کے بعد ہمایوں نگر پولیس نے 307 اقدام قتل مقدمہ کی دفعہ میں ترمیم کرتے ہوئے دفعہ 302قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT