Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / فوجی علاقہ کی قطب شاہی مسجد میں مصلیوں کے ساتھ فوجی حکام کا حسن سلوک

فوجی علاقہ کی قطب شاہی مسجد میں مصلیوں کے ساتھ فوجی حکام کا حسن سلوک

مسلمانوں کی سہولت کے لیے 5.3 لاکھ روپئے کی لاگت سے سائبان کی تنصیب،ہیلمٹ پہن کر مسجد آنے کی شرط قصہ پارینہ بن چکی

مسلمانوں کی سہولت کے لیے 5.3 لاکھ روپئے کی لاگت سے سائبان کی تنصیب،ہیلمٹ پہن کر مسجد آنے کی شرط قصہ پارینہ بن چکی
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : شہر میں مہدی پٹنم کی طرح فرسٹ لانسر میں بھی کئی تاریخی اور وسیع و عریض فن تعمیر کی شاہکار مساجد ہیں ۔ ان میں جامع مسجد قطب شاہی اندرون ملٹری ایریا فرسٹ لانسر بھی شامل ہے جو 3000 مربع گز اراضی پر محیط 14 میناروں ( چھوٹے بڑے میناروں پر مشتمل ) کی حامل 400 سالہ قدیم ہے اس مسجد میں نماز جمعہ چار بجے ہوتی ہے جس میں شہر کے مختلف مقامات سے لوگ شریک ہوتے ہیں ۔ انتظامی کمیٹی کے عہدیداروں نے بتایا کہ جن لوگوں کی نماز جمعہ چھوٹ جاتی ہے وہ جامع مسجد ہذا پہنچ کر نماز ادا کرلیتے ہیں اور نماز کے اوقات پر 1966 سے عمل کیا جارہا ہے ۔ مسجد کمیٹی کے عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مسجد میں بہ یک وقت 3000 مصلیوں کی گنجائش ہے ۔ تقریبا 1500 مصلی نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ۔ پنجوقتہ نمازوں کے بارے میں کمیٹی کے عہدیداروں نے بتایا کہ فوجی حکام نے 15 پاس جاری کئے جب کہ کمیٹی کے تین عہدیداروں کے لیے خصوصی پاس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ جناب بابر علی خاں کمیٹی کے صدر جناب افسر علی خاں نائب صدر اور احمد سلیم جنرل سکریٹری کمیٹی کا کہنا ہے کہ مسجد فوج کے کنٹرول میں ہے لیکن اس کے تمام انتظامات مسجد کمیٹی کے ہاتھ میں ہے ۔ فوجی علاقہ ہونے کے باعث پہلے مسجد میں داخل ہونے والے مصلیوں کو ہیلمٹ پہن کر جانا پڑتا تھا ۔ جس کے نتیجہ میں مصلیوں کو مشکلات پیش آتی تھیں ۔ ان حالات میں مسجد کمیٹی نے 300 ہیلمٹس خرید کر مصلیوں کو دینے کا انتظام کیا اور یہ سلسلہ زائد از 8 برسوں تک جاری رہا ۔ تاہم ایک نیک دل بریگیڈیر نے مذہبی روا داری کا غیر معمولی مظاہرہ کرتے ہوئے ہیلمٹ کا لزوم برخاست کردیا ۔ مصلیو ںنے فوجی حکام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کے فوجیوں کے جذبہ ہمدردی اور مذہبی روا داری کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔

اس فوجی علاقہ میں جابجا بندوق تھامے ہوئے فوجی اور ڈسپلن سے پر ماحول نظر آتا ہے ۔ ایک بزرگ مصلی نے بتایا کہ خود ہمارے دین اسلام میں ڈسپلن کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ مسجد کمیٹی کے صدر نائب صدر اور جنرل سکریٹری نے فوجی حکام کی ستائش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ مصلیوں اور مسجد کمیٹی کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہیں جب کہ مصلی بھی فوجی قواعد کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ مسجد کے صحن میں ایک انتہائی خوبصورت سائبان نصب کیا گیا ۔ اس شیڈ کو 530000 کی لاگت سے فوج نے تعمیر کروایا ہے ۔ فوجی حکام کے اس حسن سلوک پر مصلی کافی خوش ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ 400 سے زائد سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود مسجد انتہائی پختہ اور مضبوط ہے ۔ اس تاریخی مسجد میں مولانا محمد مبشر احمد رضوی خطبہ دیتے ہیں اور امامت بھی کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT