Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / فوجی عہدیداروں کا صیانتی خطروں پر تبادلہ خیال

فوجی عہدیداروں کا صیانتی خطروں پر تبادلہ خیال

فوج کے تینوں شعبوں کی مشترکہ حکمت عملی پر غور ‘ اجلاس میں تینوں سربراہوں کی شرکت
نئی دہلی ۔ 23اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) اعلیٰ سطحی فوجی کمانڈرس نے آج ہندوستان کی داخلی اور خارجی صیانتی خطروں کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ فوج کی جدید کاری کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں تینوں شعبوں کے سربراہوں نے فیصلہ کیا کہ بڑے صیانتی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ایک مشترکہ حکمت عملی کا تعین کیا جائے گا ۔ فوجی کمانڈرس کی 6روزہ سالانہ کانفرنس کے موقع پر فوج کے تینوں شعبوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے انسانی وسائل کی پالیسی کی فوج تک توسیع پر بھی غور کیا کیونکہ سہایک نظام کے خلاف شکایتوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ فیصلہ کیا گیا کہ مسائل کی یکسوئی کیلئے ایک سے زیادہ مشترکہ حکمت عملی کا تعین کیا جائے گا ۔ ارکان عملہ کا فروغ ایک اور مشکل مسئلہ ہے ۔ کانفرنس کا خیال تھا کہ فوج میں انتہائی اہرام جیسے نظاموں کی موجودگی سے 50فیصد ارکان عملہ کا فروغ مشکل ہوگیا ہے ۔ حالانکہ انتہائی مسابقتی ماحول پیدا کیا گیا ہے ۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ترقی یافتہ شفاف اور سب کو ساتھ لیکر چلنے والا نظام تیار کیا جائے تاکہ عظیم تر مساوات کو یقینی بنایا جاسکے ۔ زمینی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اپنی تقریر میں فوج کی پالیسی کے تعین میں شرکت پر زور دیا ۔ کانفرنس سے بحریہ کے ایرچیف مارشل پی ایس دھنوا اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا نے بھی ساتھ دیا ۔ فوجیوں کی سہایک نظام کے خلاف شکایات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور فوجی اپنی شکایات کی یکسوئی کیلئے عدالتوں سے ربط پیداکررہے ہیں ۔

کانفرنس میں فوجیوں کی صحت کے مسائل پر بھی غور کیا ۔ غوروخوص کے دوران اہم مسائل جیسے انسانی حقوق پالیسی  پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ ایک زیادہ حکمت عملی پر مبنی انسانی حقوق منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ فوج کے اہم ویڈیوز حالانکہ ان میں تبدیلیاں کردی گئی تھیں پیش کئے گئے اور سماجی ۔ معاشی عزائم کے بارے میں غوروخوص کیا گیا  ۔ حالیہ چند مہینوں میں کئی ویڈیو فلمیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں بعض فوجیوں کو اپنی برہمی سامراجی دور کے نظام کے خلاف ظاہر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور وہ شکایت کررہے تھے کہ اعلیٰ عہدیدار اُن کی گھریلو مشکلات پر توجہ نہیں دیتے ۔ ترقیوں کے بارے میں فوج کے بیشتر سرکاری محکموں میں ایک انتہائی اہرام نما نظام موجود ہے ‘ اس کی وجہ سے انتہائی مسابقتی ماحول کے باوجود اہل افراد مستحق ترقی حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں ۔ اس لئے تجویز پیش کی گئی کہ مختصر مدتی عہدوں کی اسکیم متعارف کروائی جائے گی جو امکان ہے کہ زیادہ مقبول ہوگی ۔ خواتین کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں فوج میں بھرتی پر بھی غور کیا گیا تاکہ صنفی مساوات کے اصول کو پیش نظر رکھا جائے ۔ فوجی کمانڈر کانفرنس ایک اہم موقع ہوتا ہے جس میں فوج کے طریقہ عمل اور منصوبہ بندی پر غور کرتے ہوئے تبدیلیوں کی تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT