Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / فوج کو دہشت گردی کے مقابلہ کیلئے مکمل اختیارات: حکومت

فوج کو دہشت گردی کے مقابلہ کیلئے مکمل اختیارات: حکومت

SRINAGAR,NOV 19 (UNI):- Security personnel directing people to return back at Nowhatta in Srinagar as curfew like restrictions continued on Sunday following strike called by separatists against daily Cordon and Search Operation by security forces and killing of militants in the valley. UNI PHOTO-39U

علحدگی پسندوں کی اپیل پر وادی کشمیر میں بند‘کرفیو جیسی تحدیدات نافذ

جموں/سری نگر، 19نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے عالمی دہشت گرد گروپ دولت اسلامیہ کی وادی کشمیر میں حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر مملکت دفتر وزیر اعظم جیتندر سنگھ نے کہا کہ فوج کو مکمل اختیارات دے دیئے گئے ہیں تاکہ دہشت گردی کے مقابلہ میں کامیابی حاصل کرسکے ۔ دریں اثناء سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب وادی کشمیر میں حالیہ دنوں کے دوران فوج کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف اتوار کے روز ہڑتال کی گئی جس سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ ہڑتال کے دوران کشمیر انتظامیہ نے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے متعدد علاقوں میں شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیوں کا اطلاق مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا۔ پابندیوں کا اطلاق کسی پیشگی احکامات کے بغیر جاری رکھا گیا، جن کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر میں کرفیو جیسی پابندیوں کا اطلاق جاری رکھنے کے علاوہ پوری وادی میں ریل خدمات اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی احتیاطی طور پر معطل رکھی گئیں۔ شمالی کشمیر سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق ضلع بانڈی پورہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات ہفتہ کی شام سے بدستور معطل رکھی گئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ضلع بانڈی پورہ کے چندر گیر حاجن میں ہفتہ کی دوپہر جنگجوؤں اور فوج کے مابین مسلح تصادم شروع ہوا جو شام کے وقت 6 پاکستانی جنگجوؤں اور انڈین ایئر فورس کے ایک کمانڈو کی ہلاکت پر ختم ہوا۔ ریاستی پولیس کا دعویٰ ہے کہ مارے گئے جنگجوؤں میں ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمان لکھوی کا بھتیجا بھی شامل ہے ۔

اس مسلح تصادم کے ختم ہونے کے قریب دو گھنٹے بعد مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بیان جاری کرکے اتوار کو وادی میں ہڑتال کی کال دے دی تھی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا ‘ وادی کے مختلف حصوں بشمول حاجن، پلوامہ، زکورہ اور دوسرے مقامات پر انڈین مسلح افواج کی طرف سے گذشتہ ہفتے کے دوران کئے گئے کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز اور ان میں درجنوں مزاحمتی مسلح نوجوانوں کی شہادت کے خلاف 19 نومبر کو احتجاج کے طور پر مکمل ہڑتال کی جائے ‘۔کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کی سہ پہر کو سری نگر کے مضافاتی علاقہ زکورہ میں جنگجوؤں اور فوجکے درمیان ہونے والے شوٹ آوٹ میں ایک مقامی جنگجو اور پولیس سب انسپکٹر کی ہلاکت کے تناظر میں احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے آٹھ پولیس تھانوں پارمپورہ، نوہٹہ، ایم آر گنج، رعناواری، خانیار، صفا کدل ، مائسمہ اور کرال کڈھ کے تحت آنے والے علاقوں میں ہفتہ کی صبح کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT