Monday , July 23 2018
Home / دنیا / فوج کی طرززندگی بہتر بنانے ڈوکلام میں تعمیراتی سرگرمیاں غیرقانونی نہیں : چین

فوج کی طرززندگی بہتر بنانے ڈوکلام میں تعمیراتی سرگرمیاں غیرقانونی نہیں : چین

 

سٹیلائیٹ سے پیش کی جانے والی فوجی کامپلکس کی تصاویر غلط
ڈوکلام ہمیشہ سے چین کا ہی حصہ رہا لہٰذا ٹکراؤ کا سوال ہی نہیں
ہندوستان نے سبق سیکھ لیا، ہم تنازعہ کا اعادہ نہیں چاہتے

بیجنگ ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج متنازعہ ڈوکلام علاقہ میں اپنی تعمیراتی سرگرمیوں کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’’قانون کے دائرے‘‘ میں کی جانے والی تعمیر بتایا جو دراصل وہاں تعینات فوجیوں کے علاوہ سرحدی علاقہ میں رہنے والے لوگوں کی طرززندگی میں بہتری پیدا کرنے کیلئے کی جارہی ہے۔ یاد رہیکہ چین نے اپنے اس ردعمل کا اظہار ایک ایسے وقت کیا ہے جب یہ رپورٹس گشت کررہی تھیں کہ چین ایک بہت بڑا فوجی کامپلکس تعمیر کررہا ہے جو اس مقام سے بیحد قریب ہے جہاں ڈوکلام تنازعہ نے دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کردی تھی۔ اس سلسلہ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ سے یہ پوچھا گیا کہ سٹیلائیٹ سے ملنے والی تصاویر سے یہ معلوم ہوتا ہیکہ کوئی فوجی کامپلکس تعمیر کیا جارہا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ خود انہیں بھی ایسی رپورٹس مل رہی ہیں تاہم میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایسی تصاویر کون بھیج رہا ہے اور کیوں بھیج رہا ہے۔ مزید برآں لوکانگ نے یہ بھی کہا کہ خود انہیں بھی اس تعلق سے زائد معلومات نہیں ہیں۔ تاہم گشت کررہی رپورٹس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہیکہ چین ڈوکلام میں ہندوستان کے ساتھ ایک اور ٹکراؤ والی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے۔ لوکانگ نے کہا کہ ڈوکلام میں چین کا موقف بالکل واضح ہے اور یہ ہمیشہ سے چین کا حصہ رہا ہے اور اس معاملہ میں کوئی دورائے نہیں یا کوئی تنازعہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈوکلام علاقہ میں چین کی خودمختاری کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا جس پر بھوٹان نے بھی اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ چین ڈوکلام میں اپنی فوج اور وہاں رہنے والے لوگوں کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر کررہا ہے۔ سرحدی علاقہ ایسا حساس ہوتا ہے جہاں ہر وقت طلایہ گردی کی ضرورت پیش آتی ہے جس کیلئے گشت کرنے والے فوجیوں کیلئے اگر گاڑیاں بہترین نوعیت کی فراہم کی گئی ہیں تو سڑکیں بھی اتنی ہی شاندار ہونی چاہئے۔ اسی نکتہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے چین نے ڈوکلام علاقہ میں سڑکوں کی درستگی اور کشادگی کا کام عرصہ دراز سے جاری رکھا ہے جس پر اب اعتراض کیوں کیا جارہا ہے۔ چین اپنی خودمختاری کا ڈھول اگر بجا رہا ہے تو اپنی ہی سرحد میں رہتے ہوئے بجارہا ہے کسی دوسرے ملک میں دراندازی تو نہیں کررہا ہے لہٰذا جو بھی تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں وہ قانونی ہیں بالکل اسی طرح جیسے اگر ہندوستان اپنی سرحد میں کوئی تعمیراتی سرگرمی انجام دے رہا ہے تو چین اعتراض نہیں کرسکتا۔ لوکانگ نے کہا کہ انہیں امید ہیکہ ڈوکلام علاقہ میں چین کی تعمیراتی سرگرمیوں پر کوئی دوسرا ملک تبصرہ کرنے سے گریز کرے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا چین ڈوکلام علاقہ میں تعمیراتی سرگرمیوں کے ذریعہ ہندوستان کے ساتھ دوسری بار ٹکراؤ کا موقف اپنانا چاہتا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے لوکانگ نے وضاحت کی اور کہا کہ چکن نیک کاریڈور کے قریب ایک اہم سڑک کی تعمیر کو ہندوستانی فوجیوں کی جانب سے روک دینے سے ہند ۔ چین دورخی تعلقات ایک بار پھر کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ ہند ۔ چین کے درمیان سکم کے ڈوکلام علاقہ میں دو ماہ تک ٹکراؤ جیسی کیفیت پیدا ہوگئی تھی جس پر سارے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بہرحال دو ماہ تک چلنے والا یہ سلسلہ بالآخر 28 اگست کو ختم ہوگیا اور ٹکراؤ کی صورتحال باقی نہیں رہی۔ انہوں نے ہندوستانی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے ایک حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا جہاں بپن راوت نے ڈوکلام کو ہند ۔چین کے درمیان ایک متنازعہ مقام بتایا تھا۔ لوکانگ نے کہا کہ ہندوستان کے سینئر ملٹری آفیسر نے یہ اعتراف کیا ہیکہ سرحد پار کرنے والی ہندوستانی فوجیں تھیں، چینی فوجیں نہیں۔ لہٰذا اس واقعہ نے دورخی تعلقات کو ایک بار پھر ایک نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ہندوستان اس واقعہ سے ضرور سبق سیکھے گا اور کوشش کریگا کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT