Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / فوڈ سکیورٹی کارڈ اور حصول اسناد کیلئے ادخال درخواست کی تاریخ میں توسیع ناگزیر

فوڈ سکیورٹی کارڈ اور حصول اسناد کیلئے ادخال درخواست کی تاریخ میں توسیع ناگزیر

کئی افراد آدھار کارڈ سے محرومی پر ادخال درخواست کیلئے پریشان حال ، حکومت کی توجہ ضروری

کئی افراد آدھار کارڈ سے محرومی پر ادخال درخواست کیلئے پریشان حال ، حکومت کی توجہ ضروری
حیدرآباد۔19 اکتوبر (سیاست نیوز) فوڈ سکیورٹی کارڈ و دیگر اسنادات کے لئے درخواستوں کے ادخال کی تاریخ میں توسیع ناگزیر ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہریان تلنگانہ کو راشن کارڈس کی اجرائی کے سلسلے میں درخواستوں کے ادخال کی ہدایت جاری کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ سابقہ راشن کارڈس بالکلیہ طور پر ختم کردیئے گئے ہیں اور نئے فوڈ سکیورٹی کارڈس کے حصول کے لئے درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 20 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ اس تاریخ میں توسیع کیا جانا بے انتہا ضروری ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ دیگر اضلاع کے بیشتر شہری اب بھی آدھار کارڈس سے محروم ہیں، جبکہ راشن کارڈس کے لئے داخل کی جانے والی درخواست میں آدھار نمبر تحریر کرنا ہے۔ شہر حیدرآباد میں 13 اکتوبر سے شروع ہوئی فوڈ سکیورٹی کارڈ کیلئے درخواستوں کے ادخال کی مہم کے مثبت اثرات برآمد ہورہے ہیں لیکن اب بھی کئی لوگ یہ درخواست داخل نہیں کرپائے ہیں جس کی بنیادی وجہ آدھار کارڈ کا نہ ہونا ہے۔ حکومت تلنگانہ و محکمہ سیول سپلائیز کو چاہئے کہ فوری طور پر اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے فوڈ سکیورٹی کارڈس کیلئے درخواستوں کے ادخال کی تاریخ میںمزید توسیع کا اعلان کرے۔ اس سلسلے میں متعدد سیاسی جماعتوں و قائدین کے علاوہ تنظیموں کے ذمہ داران نے ضلع انتظامیہ سے اس بات کی خواہش کی ہے کہ غریب عوام کو فوڈ سکیورٹی کارڈ کیلئے درخواست کے ادخال میں سہولت کی فراہمی کے لئے آخری تاریخ میں توسیع کی جائے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر علاقوں کی راشن شاپ پر روزانہ عوام کا ہجوم دیکھا جارہا ہے جوکہ درخواستوں کے ادخال کیلئے جمع ہیں۔ اسی طرح آدھار کارڈ کے حصول کے لئے بھی آدھار مراکز پر ہزاروں کی تعداد میں عوام روزانہ پہنچ رہے ہیں تاکہ جلد از جلد آدھار کارڈ حاصل کرتے ہوئے فوڈ سکیورٹی کارڈ کیلئے درخواست داخل کرسکیں۔ اسی طرح ضلع انتظامیہ آمدنی، طبقہ، شہریت، پیدائش، وظائف کے علاوہ دیگر اسنادات کی اجرائی کے لئے درخواستوں کے ادخال کی بھی آخری تاریخ 20 اکتوبر مقرر کی تھی اور شہریوں کو اس بات کی ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ 20 اکتوبر سے قبل اپنی تمام تر درخواستیں شہری حدود میں موجود تحصیلداروں کے دفاتر میں جمع کروادیں۔ تحصیل دفاتر میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں عوام پہنچ رہے ہیں اور درخواست داخل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن دفاتر میں عملہ کی کمی کے سبب تمام اُمور کی تیز رفتار یکسوئی ممکن نہیں ہوپارہی ہے۔ اسی لئے ضلع انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ مذکورہ اسنادات کی اجرائی کے لئے درخواستوں کے ادخال کی تاریخ میں توسیع کرے تاکہ جو لوگ آخری تاریخ تک بھی درخواستیں داخل کرنے سے محروم رہے ہیں، انہیں موقع میسر آسکے۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے جامع سروے کے مطابق ان درخواستوں کا جائزہ لینے کی اطلاع پر وہ شہری جو سروے کا حصہ نہیں بن پائے تھے، تشویش کا شکار ہے، اور کسی بھی محکمہ کے دفتر میں انہیں تشفی بخش جواب نہیں دیا جارہا ہے کہ جامع سروے میں شامل نہ ہونے والے شہریوں کو اندراجات کا موقع کہاں اور کیسے فراہم کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں بھی وضاحت کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کو اعلامیہ جاری کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تشویش کو دُور کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT