Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / فٹ پاتھ اور ٹھیلہ بنڈی تاجرین کو جعلی نوٹس سے چوکنا رہنے کی ضرورت

فٹ پاتھ اور ٹھیلہ بنڈی تاجرین کو جعلی نوٹس سے چوکنا رہنے کی ضرورت

پرہجوم اور گہماگہمی کے دوران غیرقانونی کرنسی کا استعمال ممکن، کوتاہی سے نقصان ہوسکتا ہے

پرہجوم اور گہماگہمی کے دوران غیرقانونی کرنسی کا استعمال ممکن، کوتاہی سے نقصان ہوسکتا ہے
حیدرآباد ۔ 3 جولائی (سیاست نیوز) چھوٹے تاجرین بالخصوص ٹھیلہ بنڈی اور فٹ پاتھ کے تاجرین کو ماہ رمضان المبارک کے دوران سخت چوکنا رہتے ہوئے کاروبار انجام دینا چاہئے کیونکہ وہ ایسے لوگوں کا آسان نشانہ بن سکتے ہیں جو اپنی غیرقانونی سرگرمیوں کی انجام دہی کیلئے گہماگہمی والے علاقے اور جلد بازی میں کاروبار کی تکمیل کے مقامات کے طور پر انتخاب کرتے ہیں۔ جعلی کرنسی نوٹوں کا چلن بازاروں میں کچھ وقت کیلئے عام ہوجاتا ہے اور جعلی کرنسی نوٹوں کی بڑی تعداد بینکوں کو پہنچتی ہے اور جب بینک میں یہ پتہ چلتا ہیکہ یہ کھاتہ دار کی جانب سے جمع کی جارہی نوٹ جعلی ہے اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اسی لئے چھوٹے تاجرین کو چاہئے کہ وہ بڑے کرنسی نوٹ کے حصول میں چوکسی اختیار کرے چونکہ گہماگہمی اور مصروف ترین اوقات کے دوران جعلی نوٹوں کو فروخت دینے والے ملک دشمن عناصر و سرغنہ مصروف ہوتے ہیں اور بڑے کرنسی نوٹ بازار میں پھیلاتے ہوئے اس کے عوض خریداری کے ساتھ ساتھ اصلی نوٹ بھی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔ فٹ پاتھ کے کاروباریوں کے پاس اکثر کوئی ایسا آلہ نہیں ہے جو اصلی اور جعلی نوٹ میں فرق دکھا سکے لیکن عام طور پر جن نشانیوں کے ذریعہ جعلی اور اصلی نوٹ میں فرق کیا جاتا ہے وہ نشانیاں تاجرین دیکھتے ہیں لیکن گہماگہمی اور مصروف ترین اوقات میں وہ غفلت کر بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ہزاروں روپئے کے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ مصروف ترین اوقات میں جعلی نوٹوں کو بازار میں پھیلانے کے جو طریقہ کے کار ہیں ان میں سرغنہ اپنے لوگوں کو فٹ پاتھ تاجرین یا ٹھیلہ بنڈیوں پر بڑے کرنسی نوٹ حوالے کرتے ہوئے روانہ کرتے ہیں اور ان سے معمولی قیمت کی اشیاء کی خریدی کے ساتھ بھاری رقم واپس حاصل کرلیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ہزار روپئے کی نوٹ ٹھیلہ بنڈی پر ادا کرتے ہوئے 100 روپئے کی اشیاء خریدے تو اسے 900 روپئے واپس حاصل ہوں گے اور 100 روپئے کی اشیاء بھی ملے گی اور اگر اس شخص نے ہزار روپئے کی نوٹ جعلی دی ہے تو اسے 100 روپئے کی اشیاء مفت حاصل ہوں گی اور 900 روپئے ٹھیلہ بنڈی کا کاروبار کرنے والا اپنی جیب سے ادا کرے گا۔ ماہ رمضان المبارک کے مصروف ترین اوقات کے دوران ٹھیلہ بنڈی رانوں کے علاقوں فٹ پاتھ کے کاروباریوں کو چوکسی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی و اصلی نوٹ کے فرق کے متعلق تفصیلات سے آگہی حاصل کرلینی چاہئے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے وہ محفوظ رہ سکیں۔

TOPPOPULARRECENT