فہرست رائے دہندگان سے مسلم ناموں کا غائب ہوناباعث تشویش

سدی پیٹ میں 43اور آرمور میں 49 فیصد مسلم نام حذف، سوشیل سائنٹسٹ عامر اللہ خان اور دیگر این جی اوز کا ملک بھر میں سروے
حیدرآباد۔/22جون، ( سیاست نیوز) انتخابی فہرست رائے دہندگان میں مسلم رائے دہندوں کے ناموں کا غائب ہونا ایک عام شکایت ہے لیکن سوشیل سائنٹسٹ ڈاکٹر عامر اللہ خاں کی زیر قیادت مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے ملک گیر سطح پر فہرست رائے دہندگان میں مسلم اور دیگر طبقات کے ناموں کے غائب ہونے کا دستاویزی طور پر ثبوت کے ساتھ انکشاف کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حیرت میں ڈال دیا۔ کرناٹک کے اسمبلی انتخابات سے عین قبل الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر عامر اللہ خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے ہنگامی طور پر فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کی مہم چلائی تھی۔این جی اوز کی جانب سے ابتدائی سروے کے مطابق فہرست رائے دہندگان میں 40 فیصد ایسے مسلم خاندان دکھائے گئے ہیں جن میں صرف ایک ہی بالغ شخص موجود ہے۔ دیگر طبقات میں ایسے خاندانوں کا فیصد 25 ہے۔ اس طرح بڑی تعداد میں مسلم رائے دہندوں کے نام فہرست سے غائب پائے گئے۔ سروے کے دوران غیر سرکاری اداروں نے پولنگ بوتھ سطح پر معلومات حاصل کی جس میں پتہ چلا کہ بعض خاندانوں میں الیکشن آئی ڈی کارڈ کی موجودگی کے باوجود ان کے نام فہرست میں شامل نہیں۔ بعض ایسے بھی گھرانے ہیں جنہیں فہرست میں نام کی شمولیت کا شعور نہیں ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جن ملازمین سرکار کو فہرست رائے دہندگان میں بوگس ناموں کا پتہ چلانے کی ذمہ داری دی گئی انہوں نے اپنے طور پر جانچ کے بغیر ہی کچھ نام حذف کردیئے۔ الیکشن کمیشن عام طور پر بوگس ووٹرس کے نام خارج کرنے کی مہم چلاتا ہے اور اس مہم میں شامل افراد کسی بھی طرح ناموں کو کم کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ کمیشن نے ہمیشہ ہی فہرست کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کی مہم سے زیادہ اخراج پر توجہ دی جاتی ہے۔ غیر سرکاری ادارے ناموں کے حذف کئے جانے کی وجوہات کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم انہوں نے ابھی تک کسی بھی تبصرہ سے گریز کیا۔ ڈاکٹر عامر اللہ خان اور ان کے ساتھیوں پروفیسر ابو صالح شریف، گوتم پنگل اور خالد سیف اللہ پر مشتمل ٹیم نے دیگر این جی اوز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، گجرات کے بعض اسمبلی حلقوں کی فہرست رائے دہندگان کا جائزہ لیا جس میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ان حلقہ جات میں 30 تا40 فیصد مسلمانوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے غائب تھے۔ دلچسپ بات تو یہ دیکھی گئی کہ تلنگانہ کے آرمور اسمبلی حلقہ میں 49 فیصد اور سدی پیٹ اسمبلی حلقہ میں 43 فیصد مسلمانوں کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ سدی پیٹ میں 65000 مکانات میں 6500 مسلمانوں کے ہیں اُن میں 3500 مکانات ایسے ظاہر کئے گئے جن میں صرف ایک ہی بالغ شخص ہے۔ مسلم خاندانوں میں صرف ایک بالغ شخص پر مشتمل گھرانہ کا کوئی رجحان نہیں ہوتا۔ ان خاندانوں میں دیگر بالغ افراد کی موجودگی کے باوجود ان کے ناموں کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ عامر اللہ خاں نے کہا کہ وہ ملک گیر سطح پر فہرست رائے دہندگان پر نظر ثانی کی مہم شروع کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے برخلاف اسمبلی انتخابات میں مسلم رائے دہندوں کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ اسمبلی میں معمولی اکثریت کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ لہذا اسمبلی حلقہ جات میں مسلمانوں کے ناموں کا فہرست رائے دہندگان سے غائب ہونا تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندو یا مسلم کے نظریہ سے یہ سروے نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ ہر شہری کو ووٹ کا موقع ملے جوکہ اس کا دستوری حق ہے۔

TOPPOPULARRECENT