Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے لیے رشوت کا بازار گرم

فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے لیے رشوت کا بازار گرم

دفاتر بلدیہ کے باہر درمیانی آدمیوں کے ٹولے سرگرم ، عوام کی شکایات نظر انداز
حیدرآباد ۔ /24 نومبر (سیاست نیوز) شہر میں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی اور بی سی رائے دہندوں کی شناخت کیلئے مہم جاری ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ عوام اس بات کی شکایات کرنے لگے ہیں کہ ان کے نام فہرست رائے دہندگان میں موجود نہیں ہے ۔ گزشتہ یوم ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فہرست رائے دہندگان کو ڈیویژن واری اساس پر بلدی دفاتر میں رکھا گیا ہے تاکہ عوام اپنے اعتراضات داخل کرسکیں ۔ لیکن فہرست رائے دہندگان میں پتہ کی تبدیلی و نام کی شمولیت کیلئے ایک سے زائد مرتبہ درخواستیں داخل کرنے والے درخواست گزاروں کے نام بھی فہرست میں موجود نہیں ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ اس طرح کی شکایات کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مکمل تفصیلات قوانین کے اعتبار سے حوالے کی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی فہرست رائے دہندگان میں ان کے نام شامل نہ کئے جانے کے سبب وہ پریشان ہیں ۔ اس کے برعکس بلدی دفاتر کے اطراف و اکناف منڈلانے والے درمیانی افراد 5 تا 8 سو روپئے فی کس وصول کرتے ہوئے فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت اور شناختی کارڈ کی اجرائی کو یقینی بنانے کا لالچ دیتے ہوئے درخواست گزاروں سے بھاری رقم وصول کررہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب درمیانی افراد فہرست رائے دہندگان میں نام کی شمولیت کے خواہشمند یا پتہ کی تبدیلی کرنے والوں کو مذکورہ رقم کی ادائیگی کیلئے یہ کہتے ہوئے مجبور کررہے ہیں کہ جب تک بلدی عہدیدار کو 500 روپئے ادا نہیں کئے جاتے اس وقت تک ناموں کی شمولیت ممکن نہیں ہوتی ۔ درمیانی افراد اور ایجنٹس کی جانب سے اس طرح کے الزامات عائد کئے جانے کے بعد اعلیٰ سطح پر فہرست رائے دہندگان میں شامل ناموں کے متعلق تحقیقات کروائی جانی چاہئیے اور جن درخواست گزاروں نے ناموں کی شمولیت کیلئے درخواستیں داخل کی ہیں ان درخواستوں یکسوئی تک فہرست رائے دہندگان کو قطعیت دینے سے گریز کیا جانا چاہئیے ۔ کیونکہ ایسا کرنے سے رائے دہی و انتخابی عمل سے عوام کا اعتماد ختم ہونے کا خدشہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ ناموں کی تنقیح ، تصحیح ، پتہ کی تبدیلی اور شمولیت کیلئے مہلت کے دوران داخل کردہ کئی درخواستوں پر کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT