Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت، ایجنٹس کی من مانی رقم وصولی

فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت، ایجنٹس کی من مانی رقم وصولی

فوٹو شناختی کارڈس کی اجرائی کیلئے جبراً وصولی، مابقی درخواستوں کی بروقت عدم یکسوئی پر حق ووٹ سے محرومی کا امکان

فوٹو شناختی کارڈس کی اجرائی کیلئے جبراً وصولی، مابقی درخواستوں کی بروقت عدم یکسوئی پر حق ووٹ سے محرومی کا امکان

حیدرآباد۔30مارچ ( سیاست نیوز) فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کیلئے فراہم کردہ مہلت ختم ہونے جارہی ہے لیکن اس مہلت کے دوران فہرست رائے دہندگان میں ناموں کے اندراج کو یقینی بنانے اور فوٹو شناختی کارڈ کی اجرائی میں ایجنٹس نے من مانی رقومات وصول کی ہیں ۔ انتخابی عمل میںحصہ لینے کیلئے یہ ضروری ہے کہ فہرست رائے دہندگان میں نام شامل ہو اسی مقصد سے انتخابی عہدیداروں نے فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت و تصحیح کا جو موقع فراہم کیا ہے اس کا فائدہ عوام سے زیادہ ایجنٹ اٹھا رہے ہیں ۔ نئے نام کی فہرست رائے دہندگان میں شمولیت اور فوٹو شناختی کارڈ کی اجرائی کیلئے شہر کے مختلف مقامات پر ایجنٹس کی جانب سے 500تا 800روپئے وصول کئے جارہے ہیں جبکہ ناموں میں تصحیح یا پتہ میں تبدیلی کیلئے 1000تا 1200روپئے بھی وصول کئے جارہے ہیں ۔

اس عمل کا حصہ بنے ہوئے ایجنٹس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ یہ قیمت وصول کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ یہ صرف ان کی آمدنی نہیں ہے بلکہ اس میں کئی لوگوں کا حصہ بھی ہے ۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے 9مارچ کو فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کا موقع فراہم کیا گیا تھا لیکن ضلعی سطح پر عہدیدار اپنی سہولت اور نوٹیفکیشن کی تاریخ کے مدنظر مہلت میں اضافہ کررہے ہیں ۔ اسی طرح حیدرآباد میں ضلع انتخابی عہدیدار کی جانب سے 31مارچ تک فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کا موقع فراہم کیا گیا تھا لیکن اس سہولت سے عوام نے بڑی حد تک استفادہ بھی کیا ۔ اس کے باوجود شناختی کارڈ کے حصول کیلئے بھی عوام کو 300تا 400روپئے خرچ کرنے پڑرہے ہیں جبکہ سرکاری طور پر شناختی کارڈ کے حصول کی فیس صرف 10روپئے ہے ۔ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کی آج آخری تاریخ ہے جبکہ آئندہ دو یوم میں توقع کی جارہی ہے کہ ضلعی انتخابی عہدیدار کی جانب سے فہرست رائے دہندگان کو قطعیت دیتے ہوئے نئے ناموں کی شمولیت کا سلسلہ بالکلیہ طور پر بند کردیا جائے گا اور آئندہ دو یوم میں قطعیت دی گئی انتخابی فہرست رائے دہندگان میں جن افراد کے نام شامل ہوں وہی اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں ۔ انتخابی عمل میں رائے دہندگان کا کلیدی رول ہوتا ہے اور اس رول کی ادائیگی میں رائے دہندگان کا فہرست رائے دہندگان میں اندراج ناگزیر ہے ۔ عام انتخابات 2014ء میں نظر آرہی تبدیلیوں کے باعث عوام جوق درجوق بخوشی فہرست رائے دہندگان میں اپنا اندراج کروارہے ہیں لیکن انہیں فوٹو شناختی کارڈ کے حصول میں دشواریاں پیش آرہی ہے ۔ اسی طرح جن لوگوں نے پتہ کی تبدیلی یا ناموں کی تصحیح کیلئے درخواستیں داخل کی ہیں ان کا بھی ابھی تک کوئی نتیجہ ویب سائیٹ پر موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں رائے دہندگان کے حق رائے دہی سے استعمال میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ عوام نے ضلعی انتخابی عہدیداروں سے اس بات کی خواہش کی ہے کہ جن درخواست گذاروں نے تاریخ کے اختتام سے قبل تک درخواستیں داخل کردی ہے ان کی یکسوئی کو فہرست رائے دہندگان کو قطعیت دینے سے قبل یقینی بنایا جائے تاکہ وہ لوگ حق رائے دہی سے محروم نہ ہوں ۔

TOPPOPULARRECENT