Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / فیروز خان نے لوگوں کے دل جیت لیے ، نامپلی کی سیٹ بھی جیتیں گے

فیروز خان نے لوگوں کے دل جیت لیے ، نامپلی کی سیٹ بھی جیتیں گے

پانچ سال میں ایم ایل اے نے جو نہیں کیا فیروز خاں نے کر دکھایا ۔ اب کی بار نامپلی کی قسمت بدل جائے گی

پانچ سال میں ایم ایل اے نے جو نہیں کیا فیروز خاں نے کر دکھایا ۔ اب کی بار نامپلی کی قسمت بدل جائے گی

حیدرآباد ۔ 14 ۔ اپریل : ( پی ٹی این ) : ارے بھائی جو شخص غریبوں کی ہر مشکل وقت میں مدد کرتا ہو ۔ ان کی بستیوں میں پانی کے مفت ٹینکرس پہنچاتا ہو اور بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہو اسے ہی تو لوگ اپنا قیمتی ووٹ دیں گے ۔ عوامی خدمت میں فیروز خاں سب سے آگے ہیں ۔ 2009 کے اسمبلی انتخابات میں معمولی ووٹوں سے شکست کے باوجود انہوں نے عوامی خدمت کا وہ ریکارڈ قائم کیا جو منتخب ہونے کے باوجود ایم ایل اے نہ کرسکا ۔ یہ چند عوامی جملے ہیں جو آپ کو شہر کے انتہائی اہم ترین حلقہ اسمبلی نامپلی کے مختلف مقامات پر سنائی دیں گے ۔ نامپلی اگرچہ قلب شہر میں واقع ہے لیکن اس حلقہ میں کئی عوامی مسائل ہیں چونکہ انتخابی مہم نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ ایسے میں ہم نے اس حلقہ کے متعدد علاقوں کا دورہ کیا اس علاقہ میں تقریبا تین لاکھ رائے دہندے ہیں جو کسی بھی جماعت کے سیاسی نمائندوں کو ایوان اسمبلی میں پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ حلقہ اسمبلی میں فیروز خاں کی عوامی مقبولیت کو دیکھ کر فی الوقت ہر کوئی حیران ہے اس بارے میں علاقہ کے نوجوانوں ، خواتین ، ضعیف حضرات سے بات کی گئی ۔ نامپلی کے رہنے والے ایک ایم بی بی ایس کے طالب علم کا کہنا ہے کہ حلقہ نامپلی میں صرف اور صرف فیروز خاں کی لہر ہے کیوں کہ انہوں نے ایم ایل اے نہ رہتے ہوئے بھی عوام کی خدمت میں مئیر ، ایم پی ، ایم ایل اے اور کارپوریٹروں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ اس نوجوان نے مزید بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھیوں نے اس مرتبہ تہیہ کرلیا ہے کہ کسی جماعت کو نہیں بلکہ شخصیت کی بنیاد پر ووٹ دیں گے ۔ آصف نگر اور نامپلی کے درمیان واقع ایک کالج کے لکچرر نے جو اسی علاقہ میں رہتے ہیں بتایا کہ عوام کو تلگو دیشم ، بی جے پی سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ بلکہ شخصیت ان کے لیے اہم ہیں ۔ عوامی خدمت کے لحاظ سے اس مرتبہ فیروز خان کی تائید کی جائے گی کیوں کہ اس نوجوان نے 2009 کے اسمبلی انتخابات میں معمولی فرق سے شکست کے باوجود ہمت نہیں ہاری ۔ عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا اور غریبوں کی مدد کی ۔ بیروزگار ، غریب نوجوان کو روزگار سے لگایا ۔ نیلوفر ہاسپٹل کے قریب کام کرنے والے ایک موٹر سیکل میکانک نے ایک ماہر سیاسی تجزیہ نگار کی طرح پیش قیاسی کی کہ اس مرتبہ فیروز خان کی کامیابی یقینی ہے ۔ اس سوال پر کہ آپ کس بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ فیروز خان کامیاب ہوں گے ؟ تقریبا 45 تا 50 سال عمر کے حامل اس میکانک نے بتایا کہ خود ان کے محلہ میں جہاں سب کے سب غریب ہیں پینے کے پانی کی شدید قلت تھی ۔

ایم ایل اے ، کارپوریٹر ، محکمہ واٹر ورکس کے ایم ڈی ہر کسی سے نمائندگی کی گئی لیکن کچھ نہیں ہوا ۔ بستی کی عورتوں نے جب اس معاملہ کو فیروز خاں سے رجوع کیا تب سے بستی میں انہوں نے پینے کے پانی کا ٹینکرس بھیجنا شروع کردیا ۔ یہی نہیں اگر بستی میں کچھ اچھا یا برا ہوجائے تو فیروز خاں فوری مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں ۔ اس میکانک نے مزید بتایا کہ انہیں تلگو دیشم یا بی جے پی سے کوئی واسطہ نہیں صرف فیروز خاں سے واسطہ ہے کیوں کہ نامپلی میں فیروز خاں جیسے شخص کو ہی ایم ایل اے بننا چاہئے ۔ تب عوام کو کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی نہیں ہوگی ۔ ملے پلی مسجد کے قریب رہنے والے ایک کمپیوٹر انجینئر نے جو ایک کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ چلاتے ہیں نامپلی میں پائے جانے والے کئی ایک مسائل کے حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ نئے شہر میں ہونے کے باوجود اس علاقہ کو پسماندہ رکھا گیا ۔ مقامی جماعت نے ملت ملت کے نعرہ لگاتے ہوئے علاقہ میں کوئی تعمیری کام نہیں کیا جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہوسکے ۔ اس کمپیوٹر انجینئر نے اپنے لیاپ ٹاپ پر ہمیں مختلف اعداد و شمار دکھاتے ہوئے بتایا کہ حلقہ اسمبلی کی گندہ بستیوں میں غربت ، بیماریوں ، بیروزگاری کا زور ہے کوئی بنیادی سہولتیں نہیں ۔ آپ گڈی ملکاپور ، سنتوش نگر ، ریتی باولی ، سیتارام باغ یا کسی بھی علاقہ میں دیکھئے عوام بلدی مسائل کا شکار ہیں ان حالات میں فیروز خاں گذشتہ 5 برسوں سے عوام کے لیے جو کام کررہے ہیں وہ مثالی ہیں ۔ مثال کے طور پر وہ کئی واٹر ٹینکرس کے ذریعہ عوام کو پینے کا پانی مفت سربراہ کررہے ہیں ۔ پانی کی سربراہی پر سالانہ ایک کروڑ روپئے کا خرچ آرہا ہے اور یہ رقم سرکاری خزانہ سے نہیں آرہی ہے بلکہ وہی فیروز خاں اپنی جیب سے ادا کررہے ہیں جنہیں دھاندلیوں کے ذریعہ تقریبا 6000 ووٹوں سے شکست دی گئی تھی ۔ اس انجینئر کے پاس کسی کام سے آئے ہوئے ایک جوڑے نے ہماری گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے محلہ میں فیروز خاں غریب خواتین اور بچوں میں ادویات کی مفت تقسیم عمل میں لارہے ہیں اور گذشتہ کئی سال سے وہ اس طرح کی فلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس جوڑے کے مطابق لوگ فیروز خاں کو دیکھ رہے ہیں ۔ان کی پارٹی کو نہیں ۔

اس لیے کہ اگر فیروز خاں ایم ایل اے نہ رہتے ہوئے عوام کی غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں تو پھر اگر وہ ایم ایل اے بن جائیں گے تو نامپلی حلقہ کو بدل کر ہی رکھدیں گے ۔ واضح رہے کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں واقع 24 اسمبلی حلقہ جات میں حلقہ اسمبلی نامپلی پر تمام کی نظریں جمی ہوئی ہیں ۔ اس حلقہ میں 2009 کے انتخابات میں 45.7 فیصد رائے دہی ہوئی تھی ۔ یعنی اس وقت 242486 رائے دہندوں میں سے 110827 رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا ۔ وراثت رسول خاں کو 34439 ( 31.07 فیصد ) اور فیروز خاں کو 27640 ووٹس حاصل ہوئے تھے ۔ لیکن اب حالات بالکل تبدیل ہوچکے ہیں ۔ عوام کا کہنا ہے کہ فیروز خاں نے غریبوں کے تئیں اپنے جذبہ ہمدردی ان کی مدد اور بلا لحاظ مذہب و ملت عوام کی خدمت کے ذریعہ ان کے دل جتنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ محکمہ تعلیم کے ایک ریٹائرڈ ٹیچر کے خیال میں فیروز خاں نے حلقہ اسمبلی نامپلی کے 51 سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 17000 بچوں کو کتابوں و بیاگس وغیرہ کی مفت تقسیم عمل میں لائی اور کئی اسکولوں میں باتھ رومس تعمیر کروائے ۔ ان حالات میں عوام کیسے فیروز خاں پر کسی اور کو ترجیح دیں گے ۔ انہوں نے انتہائی جوشیلے لہجہ میں کہا فیروز خاں نے لوگوں کے دل تو جیت لیے اب نامپلی اسمبلی کی سیٹ بھی جیت لیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT