Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / فیس باز ادائیگی اسکیم روکدینے پر طلباء کو مشکلات

فیس باز ادائیگی اسکیم روکدینے پر طلباء کو مشکلات

محکمہ اقلیتی بہبود دو برسوں سے تعلیمی فیس جاری کرنے سے قاصر،تعلیمی مستقبل معلق

محکمہ اقلیتی بہبود دو برسوں سے تعلیمی فیس جاری کرنے سے قاصر،تعلیمی مستقبل معلق
حیدرآباد 14 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے فیس باز ادائیگی اسکیم پر عمل آوری پر روک لگانے کے سبب طلبہ کو کئی ایک مشکلات کا سامنا ہے۔ نئی ریاست تلنگانہ میں برسر اقتدار آنے کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے فیس باز ادائیگی اسکیم کی تنسیخ اور اس کی جگہ فاسٹ نامی اسکیم متعارف کرنے کا اعلان کیا۔ نئی اسکیم کے تحت تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مستحق طلبہ کو تعلیمی امداد فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے فیس باز ادائیگی کو منسوخ کردیا تاہم اس بات کی وضاحت نہیںکی کہ کورس کے درمیان میںموجود طلبہ کی تعلیمی فیس کس طرح ادا کی جائے گی۔ حکومت نے اس سلسلہ میں موجود بجٹ کو منجمد کردیا اور اس کی اجرائی پر پابندی لگادی ہے جس کے باعث محکمہ اقلیتی بہبود گذشتہ دو برسوں کے تعلیمی فیس کی رقم کی اجرائی سے قاصر ہے۔ حکومت نے سابقہ اسکیم کے تحت موجود طلبہ کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی اور ہزاروں طلبہ فیس باز ادائیگی کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ متعلقہ کالجس کی جانب سے طلبہ پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے طور پر فیس ادا کردیں۔ غریب طلبہ اس موقف میں نہیں کہ ہزاروں روپئے کالجس کو ادا کرسکے۔ حکومت کی جانب سے فیس کی عدم اجرائی میں کالجس کو بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ حکومت کا یہ دعوی ہے کہ باز ادائیگی اسکیم میں کئی بے قاعدگیوں کے باعث عمل آوری روک دی گئی ہے۔ تعلیمی سال 2013-14 کے تعلیمی بقایاجات بھی تک ادا نہیں کئے گئے اور محکمہ حکومت کے فیصلہ کے باعث بے بسی کا اظہار کررہا ہے جب تک حکومت کی جانب سے فیس کی اجرائی کے سلسلہ میںاجازت نہیں دی جاتی اس وقت تک طلبہ کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت نے تعلیمی امداد سے متعلق نئی اسکیم کے قواعد کو ابھی تک قطعیت نہیںدی جس کے باعث جاریہ سال کیلئے طلبہ درخواستیں داخل کرنے سے محروم ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلی عہدیدار نے بتایا کہ وہ حکومت کے احکامات تک فیس کی ادائیگی کے موقف میں نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیس باز ادائیگی اسکیم کے تحت موجود طلبہ کو کورس کی تکمیل کیلئے اپنے طور پر فیس ادا کرنی ہوں گی۔ حکومت نئی اسکیم کیلئے جس طرح سخت قواعد مدون کررہی ہے ایسا لگتا ہے کہ بہت کم طلبہ کی ان شرائط کی تکمیل کرپائیں گے اور سابقہ اسکیم کے کئی طلبہ کو تعلیمی فیس سے محروم ہونا پڑے گا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ حکومت کے اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں اور دونوں حکومتوں نے طلبہ کے مستقبل کو بچانے کیلئے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT