Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / فیس باز ادائیگی اسکیم پر عدم عمل آوری سے طلبہ کے مستقبل کو خطرہ

فیس باز ادائیگی اسکیم پر عدم عمل آوری سے طلبہ کے مستقبل کو خطرہ

طلبہ شریک امتحان ہونے سے قاصر ، کالج انتظامیہ کا اولیائے طلبہ پر فیس ادائیگی کا دباؤ
حیدرآباد۔22ستمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے فیس کی بازادائیگی اسکیم پر عدم عمل آوری اب طلبہ کے مستقبل کیلئے خطرہ کا باعث بن چکی ہے اور خانگی انجنیئرنگ کالجس کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ اب طلبہ کے امتحان لینے سے قاصر ہیں اور انہیں امتحان لکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انجنیئرنگ کالجس میں جہاں امتحانات شروع ہونے والے ہیں کالج انتظامیہ کی جانب سے طلبہ اور اولیائے طلبہ و سرپرستوں پر دباؤ ڈالا جانے لگا ہے کہ وہ اپنے طور پر فیس ادا کریں یا پھر اپنے بچوں کو کالج روانہ کرنا بند کردیں کیونکہ حکومت کی جانب سے فیس کی عدم وصولی کے سبب اب وہ ان طلبہ کو امتحان میں نہیں بیٹھنے دیں گے جن کی فیس کے بقایاجات ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے فیس باز ادائیگی اسکیم پر مؤثر عمل آوری میں ناکام ہو چکی ہے اور متعدد کالجس کے ذمہ دار اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور کالج انتظامیہ مقروض ہو چکے ہیں اسی لئے و ہ یہ سخت فیصلہ لینے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے فیس بازادائیگی اسکیم میں شامل طلبہ جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالنے کی ہدایات جاری کی ہیں لیکن اس کے باوجود کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مجبور ہیں کیونکہ انہیں بھی صورتحال سے نمٹنے اور تنخواہوں کی ادائیگی کرنی ہے جس کے لئے مالیہ کے مسائل پیدا ہورہے ہیں محکمہ سماجی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر فیس بازادائیگی اسکیم کے سلسلہ میں اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن بجٹ وصول ہونے پر ہی یہ کاروائی ممکن ہو سکے گی۔ ریاست تلنگانہ کے کئی انجنیئرنگ کالجس جو کہ بند ہونے کے دہانے پر ہیں وہ اپنے طلبہ پر دباؤ ڈالتے ہوئے فیس وصول کر رہے ہیں اور ان طلبہ کی شکایت کی سماعت کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم اور کونسل برائے اعلی تعلیمات کی جانب سے بھی کالج انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ فیس کی عدم وصولی پر طلبہ کی تعلیم کو متاثر نہ کریں بلکہ فیس کی معاملت کالج انتظامیہ اور حکومت کا معاملہ ہے لیکن کالج انتظامیہ کی جانب سے طلبہ اور اولیائے طلبہ کو ہراساں کرنے کے بڑھتے واقعات سنگین صورتحال اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ فیس کی عدم ادائیگی کی بناء پر نوجوان انجنیئرنگ طلبہ کو امتحان میں نہ بیٹھنے دیا جانا انہیں الجھن کا شکار بنانے کے مترادف ہے اور کالج انتظامیہ کو فیس کی عدم وصولی کی شکایت حکومت سے ہے تو انہیں چاہئے کہ حکومت کو نشانہ بنائے اور حکومت سے فیس وصول کرے نہ کہ طلبہ کو ہراساں کیا جائے کیونکہ کئی اولیائے طلبہ و طلبہ ایسے ہیں جنہوں نے صرف حکومت کی جانب سے فیس ادائیگی کے تیقن اور اعلان کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرتے ہوئے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور عین امتحانات کے وقت کالج انتظامیہ کے اس طرح کے فیصلوں سے اولیائے طلبہ و طلبہ مشکلات کا شکار ہونے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT