Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / فیس بُک پر ملت کی ہمدردی اور غریبوں کی امداد کا ڈھونگ

فیس بُک پر ملت کی ہمدردی اور غریبوں کی امداد کا ڈھونگ

نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نفاذ قانون والی ایجنسیوں کی نظر، فیس بُک سے تفصیلات کا حصول

گذشتہ سے پیوستہ
حیدرآباد 26 ڈسمبر (سیاست نیوز) سوشل میڈیا بالخصوص فیس بُک استعمال کرنے والوں پر حکومتوں اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی گہری نظر ہے۔ حالیہ عرصہ میں ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جس میں جذباتی تبصرے کرنے والے نوجوانوں کو دہشت گرد سرگرمیوں اور آئی ایس آئی ایس سے تعلق و ہمدردی رکھنے کے جھوٹے الزامات میں گرفتار کرلیا گیا۔ کانگریس قائد ڈگ وجئے سنگھ نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ نوجوانوں کو جان بوجھ کر پھنسانے کے لئے سوشل میڈیا بشمول فیس بُک وغیرہ پر منصوبہ بند انداز میں نفاذ قانون کی ایجنسیوں نے ایک جال ڈال رکھا ہے۔ ہم نے اپنی پہلی رپورٹ میں خود فیس بُک کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی، ہندوستانی، برطانوی، جرمنی اور فرانسیسی حکومتوں اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں نے صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرنے فیس بُک سے رجوع ہوئیں۔ 2017 ء کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران اس قسم کی درخواستوں میں 21 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری تحقیقات کے حصہ کے طور پر سرکاری حکام نے فیس بُک استعمال کرنے والے افراد کا ڈاٹا فراہم کرنے کی درخواست کی۔ ان درخواستوں میں زیادہ تر فوجداری مقدمات سے متعلق تھیں جن میں سرقہ یا اغواء سے لے کر دہشت گردی و انتہا پسندی شامل ہے۔ حکومت نے اپنی درخواستوں میں یہ دریافت کیا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں نوجوان کب سے فیس بُک اکاؤنٹ رکھتا ہیؤ اپنے اکاؤنٹ پر وہ کس قسم کا مواد اپ لوڈ کرتا ہے، کس نوعیت کے پیامات و تصاویر وغیرہ پوسٹ کرتا ہے۔ فیس بُک پر پوسٹ کئے جانے والے مواد سے صارف کی ذہنیت، اس کی نفسیات اور میلان کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے لئے کام کرنے والے بعض مخبر بھی ملت کی ہمدردی، غریبوں کی امداد کی آڑ میں نوجوانوں کو انتہا پسند خیالات پر مبنی مفاد پوسٹ کرنے کی ایک طرح سے ترغیب دے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خاص طور پر نوجوانوں کو چوکنا رہنا ہوگا۔ گزشتہ پیر کو جاری کردہ فیس بُک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس سسٹم کی درخواست پر فیس بُک نے 1228 مواد تک صارفین کی رسائی روک دی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہندوستانی حکام نے فیس بُک سے 13,752 صارفین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی۔ اس بارے میں فیس بُک کا کہنا ہے کہ نفاذ قانون کی ایجنسیاں کسی بھی دہشت گردانہ حملہ یا تشدد کو ناکام بنانے کے لئے ہنگامی حالات میں صارفین اور ان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرتی ہیں۔ سال 2017 ء کے پہلے ششماہی میں فیس بُک کو ہندوستان سے ایسی 262 درخواستیں موصول ہوئیں جس میں 36 فیصد درخواستوں پر فیس بُک نے مثبت جواب دیا۔ دلچسپی کی ایک اور بات یہ ہے کہ جنوری اور جون 2017 ء کے درمیان ہندوستان میں فیس بُک خدمات میں سب سے زیادہ خلل اندازی کی گئی۔ (سلسلہ جاری ہے)

TOPPOPULARRECENT