Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / فیس بُک کا استعمال احتیاط سے کریں ورنہ … مصیبتوں کا پٹارا کُھل سکتا ہے

فیس بُک کا استعمال احتیاط سے کریں ورنہ … مصیبتوں کا پٹارا کُھل سکتا ہے

( آخری قسط )
حیدرآباد۔/27ڈسمبر، ( سیاست نیوز) آن لائن سوشیل میڈیا و سوشیل نٹ ورکنگ سرویس سے ماہانہ سرگرم طور پر استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد 2ارب ہے جبکہ ہندوستان میں فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ماہ جولائی میں 241ملین تک جا پہنچی تھی اس طرح ہندوستانی فیس بک صارفین کی تعداد فیس بک کے امریکی صارفین 240 ملین سے آگے نکل گئی۔ فیس بک کے صارفین کو یہ یاد دلانا ضروری ہوگا کہ اس کے صارفین کی آن لائن سرگرمیوں پر حکومتیں اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں گہری نظر رکھی ہوئی ہیں۔ نفاذ قانون کی ایجنسیا ںایسے افراد اور تنظیموں کو بھی اس مقصد کیلئے استعمال کرسکتی ہیں جو بظاہر خیراتی و فلاحی اور ملی کاموں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ افراد اور تنظیمیں ایسے سادہ لوح نوجوانوں اور افراد کوبآسانی اپنا شکار بنالیت ہیں جن کے دلوں میں ملت کی ہمدردی کی تڑپ ہوتی ہے جو ملت کی پریشانیوں و مشکلات کو دور کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ایسے افراد ان افراد اور تنظیموں کو ملت کے ہمدرد سمجھ کر جذباتی پیامات و تصاویر پوسٹ کردیتے ہیں اور پھر نفاذ قانون کی ایجنسیوں کا بآسانی شکار بن جاتے ہیں۔ ملک و بیرون ملک نوجوانوں اورہمدردان ملت کو ایسے لوگوں اور تنظیموں سے چوکنا رہنا چاہیئے۔ ہم نے فیس بک کے استعمال اور اس پر حکومتوں و نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی نگرانی کے بارے میںگزشتہ دو رپورٹس میں خود فیس بک کے حوالے سے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح فیس بک سے اس کے صارفین کی تفصیلات اور ان کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں ڈاٹا حاصل کیا جارہا ہے۔ فیس بک نے گزشتہ پیر کو ایک رپورٹ جاری کی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ یو پی اے کے دور اقتدار میں حکومت ماہانہ اوسط 633 درخواستیں فیس بک سے صارفین کی سرگرمیوں سے متعلق کیا کرتی تھی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کی زیر قیادت موجودہ این ڈی اے حکومت میں ماہانہ1100 درخواستیں فیس بک سے کی جارہی ہیں جس کے ذریعہ صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں ڈاٹا فراہم کرنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ بہر حال نوجوانوں کو چاہیئے کہ فیس بک استعمال کرتے ہوئے بڑی احتیاط سے کام لیں اور فیس بک پر جو بھی پوسٹ کریں سوچ سمجھ کر پوسٹ کریں ورنہ وہ کسی مصیبت میں پھنس سکتے ہیں۔( ختم شد )

TOPPOPULARRECENT