Monday , October 22 2018
Home / Top Stories / فیس بک پوسٹ پر بنگلہ دیش میں ہندووں کے 30 مکانات نذر آتش

فیس بک پوسٹ پر بنگلہ دیش میں ہندووں کے 30 مکانات نذر آتش

ڈھاکہ 11 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) احتجاجیوں کے ایک ہجوم نے بنگلہ دیش میں ہندووں کے تقریبا 30 مکانات کو نذر آتش کردیا ہے جبکہ یہاں افواہ تھی کہ اقلیتی برادری کے ایک نوجوان نے ایک اشتعال انگیز فیس بک اسٹیٹس اپ لوڈ کیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بات بتائی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے ایک ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی گئی جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ۔ یہ ہجوم کل ہندووں کے مکانات کو نشانہ بنا رہا تھا ۔ پولیس کے بموجب یہ واقعہ رنگ پور ضلع کے ٹھاکر پارا گاوں میں پیش آیا ۔ کم از کم پانچ افراد اس وقت زحمی ہوگئے جب پولیس نے ربر کی گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کے شیلس داغے تاکہ صورتحال کو قابو میں کیا جاسکے ۔ احتجاجیوں نے ادعا کیا کہ وہ ٹھاکر باری گاوں کے ایک نوجوان کی جانب سے فیس بک پر کسی پوسٹ سے مشتعل تھے اور یہ اشتعال انگیز پوسٹ ہے ۔ یہ پوسٹ چند دن قبل کیا گیا تھا ۔ پولیس کی مداخلت سے پہلے احتجاجیوں نے ہندووں کے کم از کم 30 مکانات کو نذر آتش کردیا ۔ یہاں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ بھی کی ۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس حملے سے قبل پڑوس کے چھ تا سات گاووں سے 20 ہزار افراد کا ایک ہجوم جمع ہوگیا تھا اس کے بعد کچھ نوجوانوں نے اچانک یہ حملہ کردیا ۔ پولیس کو احتجاجیوں سے نمٹنے اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ گولیاں لگنے سے چھ افراد زحمی ہوئے ہیں اور انہیں فوری دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں ایک شخص اپنے زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے اس حملہ کے سلسلہ میں 33 افراد کو حراست میں لے لیا ہے ۔ پولیس کارروائی کے خلاف ہجوم نے رنگ پور ۔ دیناجپور شاہراہ پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا جس کے نتیجہ میں ٹریفک کی آمد و رفت میں بھی خلل پیدا ہوا ۔ علاقہ میں صورتحال کشیدہ بتائی گئی ہے اور پولیس کی بھاری جمیعت کو یہاں متعین کردیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT