فیس بک پوسٹ کی وجہ سے آسٹریلیائی سیاستداں کی کڑی تنقید

سڈنی ۔ 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کے ایک روایت پسند سیاستداں کی جانب سے بندوق کے ساتھ ماحول شناس افراد پر تنقید کی غرض سے اپ لوڈ کی گئی فوٹو کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے اور امریکہ کے اسکول میں پیش آئے سابقہ واقعہ کے بعد اسے ایک گھناؤنی حرکت بتایا گیا ہے۔ آسٹریلیائی سیاست جارج کرسٹین نے ہفتہ کو اپنی شوٹنگ کے مقابلے والی تصویر کو اپ لوڈ کرتے ہوئے فیس بک پر لکھا تھا ’’آپ لوگ اپنے آپ سے پوچھئے، کیا آپ لوگ اپنے آپ کو خوش بخت محسوس کرتے ہیں۔ گرینی غنڈوں‘‘ آسٹریلیائی سیاست داں نے ’’ڈرٹی ہری‘‘ فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بلامقصد صرف شوق کے لئے تھا۔ واضح رہیکہ ڈرٹی ہری فلم میں کلنٹ ایسٹ ووڈ نے ایک پولیس کا کردار نبھایا ہے جس میںاس نے غیرقانونی کام کرنے والے افراد کو بندوق کی زور پر فعال بنا لیا ہے۔ ممبر آف پارلیمنٹ شروع سے ہی ماحول دوست افراد کے سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ گذرے عرصہ گرینس پالیٹیکل پارٹی نے کانکنی کی پروجیکٹ کو اپنے آپ کو مشینوں سے باندھ کر روکنے کی کوشش کی تھی۔ گرینس نے فیس بک پوسٹ کو پولیس کے حوالے کردیا ہے اور ساتھ ہی اپنے سینیٹر ہے سارہ بنسن یونگ کے ذریعہ پولیس کو پیغام دیا ہیکہ کریسٹنسن کے حمایتوں کے ذریعہ ان کو جان سے مارنے کے میل موصول ہورہے ہیں۔ ہنسن یونگ نے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ حقیقتاً بندوق کوئی مذاق نہیں ہے اور ایک ایسے وقت میں جب ابھی حالیہ ہی امریکہ میں 17 افراد کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا جس میں بچے بھی شامل تھے۔ آسٹریلیائی وزیراعظم مال کولم ٹرن بل نے پوسٹ کو غیرموزوں بتایا۔ اس پوسٹ پر دوسرے پارٹی کے لیڈران نے بھی کڑی تنقید کی تھی۔ سرٹیفنسن جس کی پارٹی حکمراں جماعت کی حمایتی ہے اس کے بعد اس پوسٹ کی دیلیٹ کردیا لیکن ساتھ ہی لکھا کہ میں اس گرینس سے کسی بھی قسم کا معافی مانگنے والا نہیں ہوں جو اپنے ذریعہ معاش کو محفوظ کرنے کیلئے دوسرے لوگوں کی زندگی کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ سیاستداں نے کہا کہ ہماری اس پوسٹ کا امریکہ میں پیش آئے سابقہ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ میری ہر پوسٹ ان ماحول شناس افراد کے لئے ایک کمنٹ کے طور پر تھا جنہوں نے کانکن پروجیکٹ پر غیرقانونی کام کئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT