Wednesday , December 19 2018

فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات کی اجرائی کیلئے کمیشن کا حصول

وزیرتعلیم جگدیش ریڈی پر پونم پربھاکر کا الزام، تحقیقات کروانے کا مطالبہ

وزیرتعلیم جگدیش ریڈی پر پونم پربھاکر کا الزام، تحقیقات کروانے کا مطالبہ

حیدرآباد ۔23 فبروری (سیاست نیوز) کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر پونم پربھاکر نے ریاستی وزیر مسٹر جگدیشورریڈی پر فیس ریمبرسمنٹ کے بقایہ جات کی اجرائی میں 5 فیصد کمیشن حاصل کرنے کے مبینہ لگائے گئے الزام پر برقرار رہنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کو اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ تحقیقات کے دوران ثبوت پیش کرنے کا ادعا کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیس ریمبرسمنٹ کے بقایہ جات کی اجرائی کے معاملے میں اس وقت وزیرتعلیم کی ذمہ داری نبھانے والے مسٹر جگدیشور ریڈی نے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ سے 5 فیصد کمیشن وصول کیا تھا ان کے پاس اس کا ثبوت موجود ہے۔ حکومت کسی بھی ایجنسی کے ذریعہ اس کی تحقیقات کرائے وہ تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے ثبوت پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے بحیثیت چیف منسٹر حلف برداری کے بعد تلنگانہ کوبدعنوانیوں سے پاک ریاست میں تبدیل کرنے کا عوام سے وعدہ کیا تھا۔ بغیر کسی الزام اور ثبوت کے انہوں نے مسٹر راجیا کو بحیثیت ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیرصحت کے وزارت سے برطرف کردیا تھا۔ اب جبکہ تلنگانہ کی اصل اپوزیشن کانگریس پارٹی مسٹر جگدیشور ریڈی کے خلاف نہ صرف الزام عائد کررہی ہے بلکہ ثبوت پیش کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ شفاف حکومت کا ثبوت پیش کرنے کیلئے فوری اس الزام کی تحقیقات کروائیں بصورت دیگر حکومت کے تعلق سے عوام میں غلط پیغام پہنچے گا کہ راجیا کا دلت طبقہ سے تعلق تھا۔ اس لئے انہیں فوری کابینہ سے برطرف کردیا گیا۔ جگدیشور ریڈی کا اعلیٰ طبقہ سے تعلق ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ رعایت کی جارہی ہے۔ مسٹر پونم پربھاکر نے کہا کہ وہ وزیر کے خلاف بھی الزام عائد کررہے ہیں ان کے پاس اس کا ثبوت موجود ہے۔ اس کی عوام کے سامنے وضاحت کرنے کے بجائے وزیر دھمکیاں دے رہے ہیں جس سے وہ ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ طلبہ تنظیم سے وابستہ ہوکر انہوں نے سیاست میں قدم رکھا ہے اور 14 سال تک علحدہ تلنگانہ کی تحریک چلائی ہے۔ انہوں نے جگدیشور ریڈی کے بدعنوانیوں سے متعلق کتاب کے صرف دو پننے پڑھ کر سنا رہے ہیں ابھی پوری کتاب باقی ہے۔

TOPPOPULARRECENT