Friday , July 20 2018
Home / شہر کی خبریں / فیس میں اضافہ کیلئے خانگی اسکولس کی من مانی کو روکنے کا مطالبہ

فیس میں اضافہ کیلئے خانگی اسکولس کی من مانی کو روکنے کا مطالبہ

پیرنٹس اسوسی ایشن کوآرڈی نیشن کمیٹی حیدرآباد چیاپٹر کے راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں ویشویشور و دیگر کا خطاب

حیدرآباد 11 فروری (سیاست نیوز) اسکولس میں فیس میں اضافہ کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کے لئے پیرنٹس اسوسی ایشن کوآرڈی نیشن کمیٹی حیدرآباد چیاپٹر کی جانب سے ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کیا گیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فیس کو گزشتہ سال کی سطح تک کم کیا جائے اور اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ فیس میں اضافہ کرنے سے قبل پیرنٹس سے مشاورت کی جائے اور بیلنس شیٹ بھی دکھائی جائے۔ انھوں نے کہاکہ مختلف اسکولس کے خانگی انتظامیہ بشمول چیرٹیبل اداروں کی جانب سے چلائے جانے والے بعض اسکولس کی جانب سے من مانی کرتے ہوئے بہت زیادہ فیس وصول کی جارہی ہے۔ قانون کے مطابق اسکولس ڈونیشن وصول نہیں کرسکتے ہیں لیکن کئی اسکولس اس کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ اسی طرح کئی اسکولس میں پلے گراؤنڈ نہیں ہیں پھر بھی وہ اسپورٹس فیس چارج کرتے ہیں۔ راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں شرکت کرنے والے ارکان کی رائے میں یہ اسکولس پیرنٹس کو لوٹ رہے ہیں اور حکومت بھی تعلیم کو تجارتی اور خانگی بنانے کی پالیسی اختیار کررہی ہے۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ، اسٹیٹ صدر آل انڈیا سیوا ایجوکیشن کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو کارپوریٹ اور خانگی شعبہ کو اس میدان میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے بجائے اسکولس کی تعلیم خود فراہم کرنی چاہئے۔ ٹی آر ایس حکومت نے اس کے انتخابی وعدہ میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ فیس میں اضافہ پر روک لگائی جانی چاہئے انھوں نے تعلیم کے معیار میں بہتری لانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہاکہ پرائیوٹ اسکولس میں بچوں کو ہوم ورک دیا جارہا ہے جوکہ والدین پر ایک بوجھ ہے نہ کہ ٹیچرس پر۔ یوروپ اور دیگر ممالک میں ہوم ورک دینے کا نظریہ نہیں ہے اور بچہ کو تمام تعلیم اسکول ہی میں مکمل کرنی پڑتی ہے لیکن ہندوستان میں یہ معاملہ اُلٹا ہے۔ انھوں نے حکومت سے مزید اس بات کا مطالبہ کیاکہ بجٹ کا 30 فیصد تعلیم کے لئے مختص کیا جائے تاکہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر ہوسکے اور پیرنٹس کو خانگی اسکولس کا رُخ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ فی الوقت سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار اچھا نہ ہونے کی وجہ سے پیرنٹس ان کے بچوں کو خانگی اسکولوں میں شریک کروانے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر ستار خان ممبر پیرنٹس اسوسی ایشن کوآرڈی نیشن کمیٹی نے کہاکہ خانگی اسکولس پیرنٹس کو لوٹ رہے ہیں۔ بچوں سے کمپیوٹر لیاب فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ سافٹ ویر آؤٹ ڈیٹ ہوتا ہے اور اسکولس میں مناسب کمپیوٹرس نہیں ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT