Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / فیصلے واپس لینا، مودی کے خون میں نہیں : وینکیا نائیڈو

فیصلے واپس لینا، مودی کے خون میں نہیں : وینکیا نائیڈو

اپوزیشن جماعتوں پر بحث سے راہ فرار اختیار کرنے کا الزام
نئی دہلی ۔ 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے بڑی کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کو حکومت سے اپوزیشن جماعتوں کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’فیصلہ واپس لینا ایک ایسی چیز ہے جو شاید نریندر مودی کے خون میں نہیں ہے‘‘۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ کسی بھی صورت میں واپس نہیں لیا جائیگا۔ حکومت اس مسئلہ سے پیدا شدہ صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ اس ضمن میں اگر ان کے پاس کوئی تجاویز ہیں تو حکومت کو پیش کریں۔ وینکیا  نائیڈو نے دہلی دیہات کسان مزدور کے مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے ہندی میں کہا کہ ’’واپس لینا مودی جی کے خون میں نہیں ہے‘‘۔ نائیڈو کے تبصرے اس ایک ایسے وقت منظرعام پر آئے ہیں جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور عام آدمی پارٹی (عاپ) کے بشمول کئی اپوزیشن جماعتیں نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس سے دستبرداری کا مطالبہ کررہی ہیں۔ نائیڈو نے نوٹوں کی منسوخی سے پریشان ہوکر خودکشی کرنے یا دیگر طریقوں سے فوت ہونے والے افراد کا اری دہشت گرد  حملوں کے شہیدوں سے موازنہ کرنے والے بعض اپوزیشن قائدین پر تنقید کی اور کہا کہ ’’یہ انتہائی بدبختانہ اور شرمناک ہے۔ وہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

 

ہائیکورٹ کی مرکز کو نوٹس
نئی دہلی ۔ 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج مرکزی حکومت سے ایک رکن پارلیمنٹ کی درخواست پر جواب طلب کیا ہے کہ مرکزی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو اپنی اپنی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں شرکت سے منع کردیا ہے۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس وی کے راؤ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس مسئلہ پر غور کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ حکومت کو جوابی حلف نامہ داخل کرنا چاہئے اور درخواست میں عائد الزامات کا جواب دینا چاہئے۔ جواب داخل کرنے کیلئے عدالت نے 8 مارچ 2017ء کی تاریخ مقرر کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT