فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے ضرورتمندوں میں امداد کی تقسیم

تین ماہ میں 60 لاکھ روپئے کی امداد، منیجنگ کمیٹی کا اجلاس، سرگرمیوں کا جائزہ
حیدرآباد 16 ڈسمبر (سیاست نیوز) کسی کے دل میں غریبوں، محتاجوں، کمزوروں، ضرورتمندوں، حاجتمندوں کے لئے تڑپ یوں ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ اللہ عزوجل اپنے ضرورت مندوں کی مدد کا ان لوگوں کو ذریعہ بننے کا اعزاز عطا کرتا ہے اور ایسی ہی شخصیتیں معاشرہ میں ایک صالح انقلاب برپا کرتے ہیں۔ ہمارے شہر فرخندہ بنیاد میں بے شمار فلاحی تنظیمیں کام کرتی ہیں۔ ان میں فیض عام ٹرسٹ نمایاں ہے۔ فلاحی سرگرمیوں میں وہ سیاست ملت فنڈ کی شراکت دار بھی ہے۔ نام سے فیض عام ٹرسٹ کسی ریاست کے شاہی خاندان کا قائم کردہ ٹرسٹ ظاہر ہوتا ہے لیکن اُسے اللہ کے اُن بندوں نے قائم کیا جن کے دل مصیبت زدہ انسانوں کی پریشانیوں، غربت، ان کی بیماریوں اور بے کسی پر تڑپا کرتے تھے۔ آج فیض عام ٹرسٹ اپنے عطیہ دہندگان کے غیرمعمولی تعاون کے باعث معذورین، بیماروں، نادار طلباء و طالبات یتیم و یسیر، بچوں بیواؤں وغیرہ کی مالی مدد میں مصروف ہے۔ ملک میں اپنی طرز کے اس منفرد ٹرسٹ کو ڈاکٹر شمشاد حسین جیسی شخصیت کی سرپرستی و رہنمائی حاصل ہے۔ جبکہ ملت میں تعلیمی و اقتصادی شعور بیدار کرنے کے لئے ہمہ تن مصروف رہنے والی شخصیت جناب زاہد علی خاں، ضرورت مندوں کی وقت بہ وقت مدد کے لئے تیار رہنے والے ڈاکٹر مخدوم محی الدین، فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ڈاکٹر سمیع اللہ، ماہر تعلیم جناب انور خاں، اپنے دل میں ملت کی تڑپ رکھنے والے جناب علی حیدر عامر، جناب مجاہد حسین، نواب محمد عالم خاں، ڈاکٹر بی این راؤ، جناب رضوان حیدر اور سید حیدر علی جیسے ہمدردان ملت کا غیرمعمولی تعاون حاصل ہے۔ جناب افتخار حسین سکریٹری فیض عام ٹرسٹ کی سخت محنت و جستجو نے اس ٹرسٹ کو ضرورت مندوں کی مدد کا اہم ذریعہ بنادیا ہے۔ دفتر سیاست میں فیض عام ٹرسٹ کی منیجنگ کمیٹی کا 71 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں یکم ستمبر تا 30 نومبر 2017 ء کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ پرائمری ایجوکیشن، ٹکنیکل ایجوکیشن بشمول ایم بی بی ایس و انجینئرنگ، نرسنگ کورس، میڈیکل، ریلیف و راحت کاری، ڈائیلاسیس کے مریضوں کی امداد، سیاست ملت فنڈ کے تعاون و اشتراک، بہار سیلاب متاثرین کی مدد، سیاست اور ہیلپنگ ہینڈ کے تعاون سے غریب خواتین میں ملبوسات کی تقسیم، ضیاء العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کی مدد سیاست کی جانب سے وقارآباد میں تعمیر کئے جارہے بیت المعمرین، حیدرآباد میں روہنگیائی پناہ گزینوں کے کیمپ میں پلاسٹک رومنگ شیٹس کی تقسیم، Equallyable فاؤنڈیشن کی Give Hope 1000 پر عمل آوری، جسمانی معذورین کو مالی امداد کی فراہمی جیسے اُمور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صدرنشین ٹرسٹ ڈاکٹر شمشاد حسین نے تجویز پیش کی کہ ایسے لوگوں کو فیض عام ٹرسٹ سے جوڑا جائے جو اپنے مرحوم والدین اور عزیزوں کے لئے کارپس فنڈ قائم کرنے کے خواہاں ہوں۔ اس تجویز پر فوری عمل کرتے ہوئے ٹرسٹی ڈاکٹر مخدوم محی الدین نے اپنے والد کے ایصال ثواب کے لئے ایک لاکھ روپئے کا چیک دینے کا اعلان کیا۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا کہنا تھا کہ مالیہ کے استحکام پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔ انھوں نے اس ضمن میں حیدرآبادی شہریوں کی خداترسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی اپیل پر عوام نے بہار سیلاب کے مصیبت زدگان کے لئے غیرمعمولی مدد کی جس کے نتیجہ میں 60 ٹن سامان بہار بھیجا گیا جس میں اناج، ملبوسات، ادویات سب کچھ شامل تھے۔ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ نے بہار کے سیلاب متاثرین میں 5 لاکھ روپئے مالیتی غذائی پیاکٹس بھی روانہ کئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مذکورہ سرگرمیوں کے ضمن میں فیض عام ٹرسٹ نے تین ماہ کے دوران 59,43,595 روپئے ضرورت مندوں میں تقسیم کئے۔ فیض عام ٹرسٹ زیادہ تر تعلیم پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور طلبہ کی مدد کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT