Saturday , September 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / فیض محمد اصغر

فیض محمد اصغر

حضرت خواجہ سید زین الدین شیرازی ؒ

آپ کا اسم گرامی سید داؤد اور لقب زین الدین ہے ۔ آپ حضرت خواجہ سید حسن بن محمود شیرازی (وفات ۲۷ شعبان ۷۵۰؁ھ ) کے فرزند ہیں ۔ روضۂ منورہ خلدآباد میں موجود ہے۔ حضرت خواجہ سید زین الدین شیرازیؒ (بائیس خواجہ) کے نام سے مشہور ہیں۔ بائیس خواجہ آپ کو اس وجہ سے کہا جاتا ہیکہ آپؒ کا سلسلہ نسب و طریقت دونوں بائیس واسطوں سے حضور اکرم محمد مصطفی ﷺ سے جاملتا ہے۔ آپؒ ۷۰۱؁ ہجری ۱۱۳۰؁ء میں علم و ادب کی سرزمین شہر شیراز (ایران) کے مذہبی ، علمی ، ادبی اور تجارتی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کی عمر ۷ سال کی تھی کہ آپؒ کی والدہ ماجدہ کا وصال ہوگیا ۔ آپؒ کے والد حضرت سید حسن شیرازیؒ نے آپؒ کی تربیت کی ۔ آپؒ کی ابتدائی تعلیم گھر ہی میں مکمل ہوئی ۔ آپؒ کے خاندان کا شمار شہر شیراز کے علمی گھرانوں میں ہوتا تھا ۔ آپؒ نے قرآن ، حدیث ، فقہ اور دیگر علوم میں دستگاہ حاصل کیا ۔ نوعمری میں ہی شیراز سے فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے مولانا نصیرالدینؒ اور خواجہ شہاب الدین کے ہمراہ مکہ معظمہ روانہ ہوئے ۔ مدینہ منورہ میں رسول مقبول ﷺ سے فیضیاب ہونے کے بعد آپؒ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دہلی تشریف لائے اور دہلی ہی میں مستقل قیام پذیر ہوئے ۔ سلطان محمد تغلق نے جب دولت آباد کو اپنا پایہ تخت بنایا تمام باشندگان دہلی کو حکم دیا کہ وہ دولت آباد میں آباد ہوجائے تو آپؒ نے ۲۶ سال کی عمر میں اپنے استاد محترم مولانا کمال الدین سامانہؒ کے ہمراہ ۷۲۶؁ ھ ، ۱۳۲۷؁ء کو دولت آباد تشریف لائے اور رشد و ہدایت کو اپنالیا۔ آپ ہمیشہ دولت آباد کی مسجد میں تفاسیر ، قرآن حکیم اور احادیث نبوی ﷺ، وعظ و نصیحت ، درس و تدریس ، علوم ریاضت و عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے ۔
حضرت زین الدین شیرازیؒ دہلی سے رخصت ہوئے تو حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ اور سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی کے خلفاء اور مریدین ، امراء ، شہزادگان حوض شمسی تک حضرت شیرازیؒ کو رخصت کرنے آئے ۔ اس وقت حضرت نصیرالدین چراغ دہلویؒ نے حوض شمسی کے کنارے قبلہ رو بیٹھ کر دعا کی اور اپنے سر سے عمامہ اُتارکر حضرت خواجہ سید زین شیرازی کے سر پر باندھ دیا ۔ اس کے بعد سلطان المشائخ حضرت خواجہ محبوب الٰہی کے اور کچھ اپنے تبرکات حضرت شیرازیؒ کو عطا فرمایا اور رخصت کیا ۔

۷۶۸؁ھ سے مسلسل تین سال تک حضرت شیرازیؒ اپنے پیرومرشد کے روضہ سے قریب اپنے مکان اور اپنی خانقاہ میں قیام پذیر رہے ۔ ۲۵؍ ربیع الاول ۷۷۱؁ ھ جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو کچھ دیر کے لئے غشی طاری ہوگئی ۔ مولانا شہاب الدین خادم خاص نے عرض کیا عصر کی نماز کا وقت ہوگیا ہے ۔ فوری اُٹھے وضو کیا اور مصّلے پر کھڑے ہوگئے ۔ عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد سر مبارک کو سجدے میں رکھا اور آخرت کو لبیک کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دوسرے دن ۲۶؍ ربیع الاول ۷۷۱؁ ہجری کو آپ کے مکان کے مشرقی سمت اُسی جگہ تدفین عمل میں آئی جہاں آج آپ کی بارگاہ موجود ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT