Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / فیملی ٹیکس کے اثرات

فیملی ٹیکس کے اثرات

 

کے این واصف
سعودی عرب میں اسکولس کو جب گرمائی چھٹیاں شروع ہوتی ہیں تو ریاض شہر پر ایک قسم کی ویرانی سی چھا جاتی ہے ۔ بازار، سڑکیں ، شاپنگ مالس و غیرہ خالی خالی سے نظر آتے ہیں۔ ایسا منظر یہاں ہمیشہ سے رہا ہے ۔ مگراس سال یہاں ویرانی کی کیفیت کچھ زیادہ نظر آرہی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو غیر قانونی افراد کوحکومت کی جانب سے دی گئی مہلت کی مدت میں کوئی 6 لاکھ افراد صرف پچھلے چار ماہ کے عرصہ میں یہاں سے چلے گئے ۔ دوسرے ایک قابل لحاظ تعداد فیملی ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کیلئے پہلی جولائی سے قبل اپنی فیملی کو یہاں سے وطن منتقل کردیا ۔ تیسرے یہ کہ پچھلے ایک سال سے زائد عرصہ سے یہاں کی کمپنیوں اور خانگی اداروں سے غیر ملکیوں کو ملازمت سے فارغ کیا جاتا رہا ہے یا کچھ غیرملکی کمپنیوں کی ابتر مالی حالت کو دیکھتے ہوئے از خود مملکت چھوڑکر چلے گئے ۔ اس سلسلے کی بات کو آگے بڑھانے سے قبل ہم اس بات کا تذکرہ بھی کریں گے کہ محکمہ جوازات نے ایک خبر جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہلت کی مدت سے فائدہ اٹھاکر مملکت سے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد کے یہاں سے واپس بھی آگئی ہے ۔ محکمہ جوازات کی جاری کردہ خبر کے مطابق ’’غیر قانونی تارکین سے پاک وطن‘‘ مہم کے تحت ماہ شوال 1438 ھ کے آخر تک 572488 تارکین وطن نے استفادہ کیا تھا ۔ ان میں سے 12 ہزار فنگر پرنٹس کے منفی اثرات سے استثنیٰ کے باعث ملازمت کے ویزوں پر سعودی عرب واپس آگئے۔ محکمہ پاسپورٹ نے یہ اطلاع دیتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب نے غیر قانونی تارکین کو جرمانوں ، سزاؤں اور فنگر پرنٹس کے منفی اثرات سے استثنیٰ دیا تھا ۔شروع میں 90 روز کی مہلت دی گئی تھی ۔ تارکین سے کہا گیا تھا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھاکر وطن واپس جاسکتے ہیں ۔ محکمہ پاسپورٹ نے مملکت کے مختلف علاقوں میں 50 سے ز یادہ استقبالیہ مراکز وطن واپسی کی کارروائی کیلئے قائم کر رکھے تھے۔ تو یہی واپس جانے والے اور دوبارہ واپس آنے والوں کی صورتحال۔ مہلت سے فائدہ ا ٹھاکر جو تقریبا ً 6 لاکھ افراد مملکت سے چلے گئے ، ان میں سے ایک چھوٹی تعداد پھر واپس بھی آگئی اور ملازمت سے لگ بھی گئی جوایک خوش آئند بات ہے لیکن فیملی ٹیکس کا بوجھ برداشت نہ کرسکنے والے تارکین وطن جنہوں نے اپنے اہل و عیال کو واپس بھیج دیا یا واپس بھیجنے کا ذہن بنالیا، وہ ایک بڑی تعداد ہے اور اس بڑی تعداد کے مملکت سے چلے جانے کا اثر زندگی کے ہر شعبہ پر پڑے گا۔اس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ تعلیم اور صحت (یعنی خانگی اسکولس اور خانگی اسپتالس) ہیں۔ مملکت میں کام کرنے والے خانگی اسکولس جن کا ایک بہت بڑا جال سارے مملکت میں پھیلا ہوا ہے اور یہ سارے اسکول انتظامیہ بھی غیر ملکی افراد کے ہاتھ میں ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں سرکاری اسکولس حسب ضرورت قائم ہیں ، جن میں فیس بھی نہیں لی جاتی لیکن ان اسکولس میں صرف سعودی بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے یا پھر اگر گنجائش ہو تو کچھ غیر ملکی بچوں کو جن کا تعلق عرب ممالک سے ہو ، انہیں ان اسکولس میں داخلہ دیا جاتا ہے ۔ لہذا غیر ملکی بچوں کی اکثریت کو خانگی مدارس میں ہی داخلہ حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ بالفرض محال اگر یہاں سرکاری مدارس سارے غیر ملکی بچوں کیلئے کھول دیئے جائیں تو بھی تمام غیر ملکی بچے ان میں داخلہ نہیں لینا چاہیں گے کیونکہ یہ سرکاری مدارس صرف عربی میڈیم کے ہوتے ہیں ۔ اب ہندوستانی پاکستانی ، بنگلہ دیشی ، انڈونیشیائی وغیرہ وغیرہ کی بہت بڑی تعداد یہاں آباد ہے ، ان کے بچے ظاہر ہے ، عربی میڈیم میں تعلیم دلوانے کو ترجیح نہیں دیں گے کیونکہ کچھ عرصہ بعدان بچوں کو اپنے وطن لوٹنا ہے ۔ لہذا غیر ملکیوں (غیر عرب) کی اکثریت اپنے بچوں کو انٹرنیشنل اسکولس میں داخل کرانے پر مجبور ہیں جبکہ خانگی اسکولس میں تعلیم دلوانے کیلئے ایک قابل لحاظ رقم بھی خرچ کرنی پڑتی ہے ۔ مگر یہ معاملہ بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کا ہے ، اس لئے غیر ملکی کسی طرح یہ اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ غیر ملکی باشندے برسوں سے تعلیم کے مد میں یہ رقم خرچ بھی کر رہے تھے۔ یہ سلسلہ کسی طرح وہ قائم رکھے ہوئے تھے لیکن چند برسوں میں یہاں کی جو اقتصادی حالت بگڑی تب سے غیر ملکیوں کیلئے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوگیا ہے ۔ نتیجتاً یا تو لوگ ا پنے بچوں کو وطن واپس بھیجنے لگے یا پھر اسکول انتظامیہ کو فیس ادائیگی میں پابند نہیں رہے ، جس کا اثر اسکول انتظامیہ پر پڑ رہا ہے ۔ لہذا پچھلے چند برسوں میں ہر شہر میں کچھ اسکولس بند ہونے لگے لیکن اب یکم جولائی سے جو فیملی ٹیکس عائد ہوا ہے ، وہ غیر ملکی افراد پرایک کاری ضرب ہے ۔ یعنی ہر غیر ملکی کو اپنے ہر بچے پر پہلے سال 12 سو ریال ، دوسرے سال 24 سو اور تیسرے سال اس کا بھی دوگنا جبکہ اس کی تنخواہ یا آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، نہ کمپنیاں یا اداروں نے یہ فیملی ٹیکس ادا کرنے کا ذمہ ہی لیا۔ اب اگر ایک غیر ملکی جو اب تک مکان کے کرایہ ، کھانا ، پینا ، تعلیمی اخراجات ، علاج معالجہ اور دیگر اخراجات ادا کر کے اپنی ساری آمدنی خرچ کر کے ان اخراجات کو پورا کر رہا تھا تو اب وہ آمدنی میں کوئی اضافے کے بغیر کس طرح اور کہاں سے فیملی ٹیکس ادا کرے گا ۔ اب غیر ملکیوں کے پاس ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو وطن واپس بھیج دے، یہ فیصلہ ہر غیر ملکی کیلئے اتنا آسان بھی نہیں لیکن وہ مجبور ہیں اور اگر مجبوری میں غیر ملکی اپنے اہل و عیال کو وطن بھیج دیتے ہیں تو اچانک اسکولس کی تعداد میں کمی وا قع ہوگی ۔ خانگی اسکول انتظامیہ جس میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے وہ ہے بلڈنگ کا کرایہ اور اساتذہ کی تنخواہ ہیں۔ اب بچوں کی تعداد کم ہوتی ہے تو یہ بڑے خرچ اچانک کم نہیں کئے جاسکتے۔ نیز ہر خانگی اسکول کے انتظامیہ کو ہدایت ہے کہ وہ اسکول میں 25 فیصد سعودی ا سٹاف رکھے اور ہر سعودی ٹیچر کی تنخواہ 5 ہزار ریال سے کم نہ ہو ۔ پہلے یوں ہوتا تھا کہ یہ پانچ ہزار تنخواہ کا آدھا حصہ اسکول انتظامیہ ادا کرتا تھا جبکہ باقی آدھا حکومت کی جانب سے ملتا تھا لیکن پچھلے ہفتہ جاری ایک سرکاری اعلان کے مطابق وزارت تعلیم نے نجی اور انٹرنیشنل اسکولوں پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ سعودی اساتذہ کو کم از کم 5600 ریال ماہانہ تنخواہ دیں۔ وزیر تعلیم نے تحریری ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران فروغ افرادی قوت فنڈ نجی اسکولوں میں سعودی اساتذہ کی تنخواہوں کا ایک حصہ ادا کر رہا تھا ۔ مقررہ مدت تمام ہوگئی ہے ۔ اسکولوں کو سرکاری سبسیڈی والے نئے اساتذہ ایسی صورت میں بالکل فراہم نہیں کئے جائیں گے جبکہ سبسیڈی کے دورانیہ سے استفادہ کرنے والے اساتذہ کی ملازمت کے معاہدے ختم کرنے کیلئے قانون کی روح سے عاری فیصلے منظر عام پر آجائیں۔ وزیر تعلیم نے تمام نجی و غیر ملکی اسکولوں اور سرمایہ کاروں سے کہا ہے کہ ان کی نگرانی کی جائے گی ۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ نجی و غیر ملکی اسکول اب تک سبسیڈی والے اساتذہ کو برطرف نہیں کریں گے ۔ شاہی فرمان کے مطابق سعودی اساتذہ کی تنخواہ 5 ہزار ریال اور ٹرانسپورٹ الاؤنس 600 ریال مقرر ہے۔
اس طرح خانگی اسکولس جن کے پاس تعداد میں کمی واقع ہونے کی وجہ سے ان کی آمدنی پر ویسے ہی بڑا اثر پڑا ہے ۔ اوپر سے اگر انہیں سعودی اساتذہ کی پوری تنخواہ (حکومت کی ہدایت کے مطابق) ادا کرنی پڑے گی تو یہ ان پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہوگا ۔ ایک طرف فیس کی وصولی میں کمی دوسری طرف اخراجات میں اضافہ تو انتظامیہ اس بڑے فرق کی بھرپائی کہاں سے کرے گا ۔ پھر اسکول کوئی دکان نہیں جسے نقصان کے پیش نظر فوری طور پر بند کردیا جائے ۔ ہر اسکول کے ساتھ سینکڑوں ، ہزاروں بچوں کا مستقبل جڑا ہوتا ہے ۔ طلباء کسی معقول وجہ کے سبب اچانک اسکول چھوڑ سکتے ہیں مگر اسکول انتظامیہ اچانک اسکول بند نہیں کرسکتا لیکن اگلے چند دنوں میں بہت سے خانگی اسکولس کو یہ سخت فیصلہ لینا ہوگا کیونکہ کوئی انتظامیہ نقصان میں اسکول تو نہیں چلا سکتا۔
بہرحال غیرملکی باشندوں میں جو فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں، ان میں ایک ہنگامی صورتحال ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے یہ فیملی ٹیکس اچانک ان پر عائد کیا ہے ۔ یہ فیس کا اعلان 7 ماہ قبل ہی کردیا گیا تھا ، مگر بھلا ہو whatsaap سے غلط اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے والوں کا جنہوں نے ان 7 ماہ کے دوران عوام کو مسلسل خوش فہمیوں میں مبتلا کر رکھا تھا ۔ لوگوں کو فیملی فیس کے لاگو ہونے کا پورا یقین اس وقت آیا جب یکم جولائی سے فیس وصولی کی عمل آوری شروع ہوگئی اور انہوں نے جب خود یہ فیس ادا کی۔
بہرحال اگلے چند دنوں میں مملکت کا تصور یوں لگتا ہے کہ اسکولس میں طلباء کی کمی ، اسپتالوں میں مریضوں کی کمی ، شاپنگ مالس میں گاہکوں کی کمی، مکان داروں کے یہاں کرایہ دار کی کمی ، مجموعی طور پر بازاروں کی رونق اور چمک دمک میں کمی ہوجائے گی جس کا اثر خانگی سیکٹر کی معیشت پر نمایاں طور پر نظر آئے گا ۔ اس کے علاوہ اس کا اثر ان ممالک پر بھی ہوگا جن ممالک کے باشندے یہاں بڑی تعداد میں برسوں سے آباد ہیں۔
مملکت کے تمام اخبارات کے کالم نگاروں نے اس موضوع پر اپنا قلم اٹھایا ہے اور فیملی فیس کے منفی اثرات پر اظہار خیال کیا ہے ۔ مگر انگریزی روزنامہ سعودی گزٹ کے کالم نگار ڈاکٹر علی الغامدی نے ایک بات جو سب سے الگ کہی وہ یہ تھی کہ حکومت کو اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ لوگوں کو مجبوری میں اپنے اہل و عیال کو وطن واپس بھیجنا پڑھ رہا ہے ۔ ان کی ذہنی الجھن ، ان کی دلی تکلیف ان کے جذبات کا مجروح ہونا ان کے بیوی بچوں کا اپنے صدر خاندان سے الگ ہونے کا دکھ وغیرہ وغیرہ سب سے اہم شئے ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی ، اپنی زندگی کے بہترین ایام مملکت میں گزارے اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ادا کیا ۔ آج ان کو فیملی فیس کے بوجھ سے مجبور ہوکر اپنی فیملی کو وطن بھیجنا اور یہاں تنہا زندگی بسر کرنا پڑ رہا ہے ۔ آخر میں انہوں نے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گزارش کی کہ وہ ان انسانی جذبات کی قدر کرتے ہوئے حکومت کے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں تو ہزاروں خاندانوں کی دعائیں مملکت کو حاصل ہوں گی۔

TOPPOPULARRECENT