Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / فیڈررومبلڈن میں تاریخ رقم کرنے کے بعد نمبرایک مقام کی سمت

فیڈررومبلڈن میں تاریخ رقم کرنے کے بعد نمبرایک مقام کی سمت

لندن ۔17جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) کنگ راجر فیڈرر ومبلڈن میں تاریخ رقم کرنے کے بعد اب عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک مقام کی سمت گامزن ہیں اور آئندہ ماہ وہ دوبارہ نمبر ایک مقام پر واپسی کرسکتے ہیں کیونکہ پیر کو جاری کردہ تازہ ترین درجہ بندی میں وہ تیسرے مقام پر پہنچ چکے ہیں حالانکہ 2016 کے دوسرے نصف سیزن سے کنارہ کشی کرنے کے بعد جب انہوں نے 2017 میں واپسی تو انکا درجہ بندی میں مقام 17 تھا لیکن آسٹریلین اوپن کے دوماسٹرس سیریز اور اتوار کو ومبلڈن خطاب ریکارڈ 8 ویں مرتبہ جتنے کے بعد اب وہ تیسرے مقام پر آچکے ہیں جبکہ دوسرے مقام پر موجود رافل نڈال سے 920 نشانات اور عالمی نمبر ایک اینڈی مرے 1205 نشانات پیچھے ہیں اور اب جبکہ سیزن کو دوسرا نصف مرحلہ شروع ہوگا تو مرے کو5460 نشانات اور نڈال کو370 نشانات کا دفاع کرنا ہے لیکن فیڈرر کو کوئی نشان دفاع نہیں کرنا ہے لہذا اب ہر کامیابی کے ساتھ ان کے درجہ بندی کے نشانات میں اضافہ ہی ہوگا جس سے ان کی آئندہ ماہ نمبرایک مقام پر واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور وہ اس مقام پر واپسی کرتے ہیں تو فیڈرر معمر نمبرایک کھلاڑی کا انڈری آگاسی کو ریکارڈ بھی توڑ دیں کیونکہ آگاسی 33 سال کی عمر میں یہ مقام حاصل کیا تھا اور فیڈرر آئندہ ماہ اپنی 36 ویں سالگرہ کے بعد یہ مقام حاصل کرسکتے ہیں۔یادرہے کہ فیڈرر نے ومبلڈن کے فائنل میں کروشیا کے میرن چیلچ کو شکست دے کر نئی تاریخ رقم کردی ہے۔فیڈرر نے فائنل میں زخمی چیلچ کو 3-6، 1-6 اور 4-6 سے شکست دے کر ریکارڈ آٹھویں مرتبہ ومبلڈن چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔فیڈر نے 2012 میں خطاب حاصل کرکے 122 سال بعد یہاں سب سے زیادہ خطابات کاریکارڈ برابر کیا تھا تاہم اس مرتبہ 128 سال کے طویل ریکارڈ کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے۔انگلینڈ کے ولیم رینشا نے 1881 سے1889 کے دوران سات مرتبہ ومبلڈن چمپیئن بننے کا اعزازحاصل کیا تھا جس کو سوئس اسٹار نے اپنے نام کیا۔ فیڈرر نے 2003،2004،2005، 2006، 2007، 2009 اور 2012 میں خطابات اپنے نام کئے ہیں تاہم مسلسل فتوحات میں ولیم رینشا کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔35 سالہ فیڈرر نے تاریخی کامیابی کے بعد حریف کھلاڑی میرن چیلچ کو ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کے کھیل کی تعریف کی۔فیڈرر نے فائنل میں اپنے حریف کھلاڑی کے متعلق کہا کہ انھوں نے بہتر کھیلا اور وہ ایک ہیرو ہیں اور انھیں بہترین ٹورنمنٹ پر مبارک دیتا ہوں۔میرن چیلچ پہلے ہی سیٹ میں پاؤں میں چھالا آنے کے باعث زخمی ہوگئے تھے تاہم انھوں نے کھیل کے سلسلے کو جاری رکھا۔ فیڈرر نے رواں سال اپنی بہترین کارکردگی کے سلسلے کا جاری رکھتے ہوئے ومبلڈن کے سیمی فائنل میں ٹامس برڈک کو 7-6، 7-6 اور 6-4 سے زیر کر کے 11ویں مرتبہ ومبلڈن اوپن فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔سوئس اسٹارکا اس سال ومبلڈن اوپن کا سفر انتہائی شاندار رہا اور وہ پورے ٹورنمنٹ میں ایک سیٹ بھی نہیں ہارے اور1976 میں بیورن بورس کے بعد انہوں نے ایسا کامیاب سفر مکمل کیا جبکہ نڈال نے گذشتہ گرانڈ سلام فرنچ اوپن 2017 میں اسی انداز سے اپنا 10 خطاب حاصل کیا ہے۔ راجر فیڈرر ٹٰینس کی تاریخ میں دوسرے کھلاڑی ہیں جنھوں نے ایک ہی گرانڈ سلام میں آٹھ مرتبہ کامیابی حاصل کی جبکہ اس سے پہلے اسپین کے رافیل نڈال پہلے کھلاڑی ہیں جنھوں نے فرنچ اوپن کا خطاب دس مرتبہ اپنے نام کیا۔ فیڈرر پانچ مرتبہ آسٹریلین اوپن، پانچ مرتبہ یو ایس اوپن جبکہ ایک مرتبہ فرنچ اوپن بھی جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ فیڈرر کے پاس 29 مرتبہ گرانڈ سلام فائنلس میں مسلسل دس مرتبہ پہنچنے کا اعزاز بھی ہے۔راجر فیڈرر دنیا کے امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ان کی کل آمدنی 64 ملین ڈالرس ہے۔ ٹٰینس کی مقبولیت میں انکا کلیدی رول مانا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT