Saturday , September 22 2018
Home / کھیل کی خبریں / فیڈرر کی تاریخ ساز کامیابی‘ سوئزرلینڈ پہلی مرتبہ ڈیوس کپ چمپئن

فیڈرر کی تاریخ ساز کامیابی‘ سوئزرلینڈ پہلی مرتبہ ڈیوس کپ چمپئن

للی (فرانس)۔ 24؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ راجر فیڈرر کو ڈیوس کپ چمپئن ٹیم کے رکن ہونے کے لئے 16 برس کا طویل انتظار کرنا پڑا، لیکن بالآخر فیڈرر نے ٹینس کے میدانوں میں تقریباً ہر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ چاروں گرانڈ سلام خطابات، مجموعی طور پر 17 گرانڈ سلام خطابات، سیزن کے آخر میں کھیلے جانے والے اے ٹی پی کے 6 خطابات، 23 ماسٹرس سیریز، اولمپک گول

للی (فرانس)۔ 24؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ راجر فیڈرر کو ڈیوس کپ چمپئن ٹیم کے رکن ہونے کے لئے 16 برس کا طویل انتظار کرنا پڑا، لیکن بالآخر فیڈرر نے ٹینس کے میدانوں میں تقریباً ہر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ چاروں گرانڈ سلام خطابات، مجموعی طور پر 17 گرانڈ سلام خطابات، سیزن کے آخر میں کھیلے جانے والے اے ٹی پی کے 6 خطابات، 23 ماسٹرس سیریز، اولمپک گولڈ میڈل اور اب سوئزرلینڈ کے لئے ڈیوس کپ بھی مکمل ہوچکا ہے۔ راجر فیڈرر جنھوں نے ڈیوس کپ کے فائنل میں گزشتہ رات فرانس کے رچرڈ گیسگے کے خلاف راست سیٹوں میں کامیابی حاصل کی جس کی بدولت سوئزرلینڈ نے پہلی مرتبہ چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ اولمپکس میں فیڈرر نے بھلے ہی سنگلز کا گول میڈل حاصل نہیں کیا، لیکن ڈبلز میں وہ اسٹانسلس واؤرنکا کے ساتھ جوڑی بناتے ہوئے 2008ء بیجنگ اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ فیڈرر کے لئے ہنوز اپنے کٹر حریف اینڈری اگاسی اور رافل نڈال کی برابری کے لئے اولمپکس میں سنگلز زمرہ کا گولڈ میڈل حاصل کرنا ہے، کیونکہ اگاسی اور نڈال چاروں گرانڈ سلام خطابات، ڈیوس کپ اور اولمپکس میں سنگلز زمرہ کا خطاب حاصل کرچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود کئی زاویوں سے فیڈرر کو ہمیشہ کا سب سے بہترین اور عظیم کھلاڑی قرار دیا جاتا ہے۔ فیڈرر کے لئے ڈیوس کپ کا آخری سنگلز مقابلہ اپنے نام کرنا تھا، لیکن ان کے لئے حالات اس لئے مشکل تھے، کیونکہ پیٹھ کی تکلیف کے باعث وہ جوکووچ کے خلاف اے ٹی پی ورلڈ ٹور فائنلس کے خطابی مقابلہ سے دستبرداری اور سنگلز میں جائل موفلس کے خلاف شکست برداشت کرچکے تھے۔ تاریخ ساز کامیابی حاصل کرنے کے بعد فیڈرر میدان پر ہی روپڑے تھے۔

TOPPOPULARRECENT