Wednesday , December 19 2018

ف12فیصد مسلم تحفظات پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی خاموشی

مرکزی بجٹ سے تلنگانہ کیساتھ ناانصافی کے باوجود دہلی میں جی حضوری : محمد علی شبیر کا ریمارک

حیدرآباد ۔ 16 فبروری (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کے سی آر کو حیدرآباد میں ’’شیر دہلی میں بلی‘‘ قرار دیتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات پر خاموشی اختیار کرنے اور مرکزی بجٹ میں ریاست کو نظرانداز کے باوجود مرکزی حکومت کے ساتھ جی حضوری کا رویہ برقرار رکھنے کی سخت مذمت کی۔ آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر کانگریس کے ایم ایل سی پی سدھاکر ریڈی بھی موجود تھے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں 12 فیصد مسلم تحفظات اور 10 فیصد ایس ٹی تحفظات کی قرارداد منظور کرکے مرکز کو روانہ کردیا گیا ہے۔ مہینوں گذر جانے کے باوجود یہ قرارداد کہاں ہیں، اس کی حکومت اور چیف منسٹر کے سی آر کو کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بل وزارت داخلہ میں یا محکمہ قانون کے پاس یا وزیر پارلیمانی امور کے پاس ہے۔ اس کے بارے میں جاننے کی چیف منسٹر کے سی آر یا ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے کبھی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ چند دن سے دہلی میں قیام کرنے والے چیف منسٹر نے مسلم تحفظات پر دباؤ بنانے کی کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی اور نہ ہی ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے کبھی اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں احتجاج کیا جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ اس مسئلہ پر کانگریس پارٹی بجٹ سیشن کے دوران اسمبلی اور کونسل میں حکومت کو گھیرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرے گی، ضرورت پڑنے پر احتجاجی لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے گا۔ محمد علی شبیر پڑوسی ریاست آندھراپردیش کی تلگودیشم حکومت این ڈی اے کی حلیف ہونے کے باوجود بجٹ میں ناانصافی پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کرتے ہوئے مرکز کو آندھراپردیش کے ساتھ انصاف کرنے کیلئے مجبور کررہی ہے جبکہ ٹی آر ایس این ڈی اے کی حلیف نہ ہونے پر بھی نرم رویہ اپناتے ہوئے مرکز کی تلنگانہ کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھنے پر بھی مرکزی حکومت کے ساتھ جی حضوری کررہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے مرکز کو 42,000 کروڑ روپئے کی تجاویز روانہ کی تھی جبکہ مرکز نے تلنگانہ کو صرف 450 کروڑ روپئے ہی منظور کئے ہیں۔ مرکز کے ساتھ احتجاجی رخ اپنانے کے بجائے ٹی آر ایس بزدلی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ تقسیم آندھراپردیش بل میں تلنگانہ کیلئے جو وعدے کئے گئے ہیں، اس کو حاصل کرنے کیلئے مرکز پر دباؤ بنانے میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ ضلع نظام آباد میں کسانوں کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ کو بتانے بابا رام دیو سے ملاقات کرتے ہوئے نظام آباد میں ہلدی یونٹ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر آج تک اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔ لال جوار، ہلدی اور دالوں کو اقل ترین قیمت وصول نہ ہونے کے خلاف کسان احتجاج کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT