Tuesday , December 19 2017
Home / Top Stories / ف12 فیصد تحفظات سے مسلمانوں میں انقلابی تبدیلی ممکن

ف12 فیصد تحفظات سے مسلمانوں میں انقلابی تبدیلی ممکن

تلنگانہ حکومت اپنا وعدہ پورا کرے ،جوگی پیٹ میں جلسہ سے عامر علی خان کا خطاب

حیدرآباد /11 دسمبر (سیاست نیوز )  جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی مہم ایک غیر سیاسی تحریک ہے، جو صرف مسلمانوں اور ملت کے مفاد کے لئے چلائی جا رہی ہے۔ جوگی پیٹ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے بمقام بہادر خان فنکشن ہال جناب ارشد محی الدین رپورٹر سیاست کی صدارت میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا کہ اقتدار حاصل ہونے کے اندرون چار ماہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کردیا جائے گا، تاہم 18 ماہ گزرنے کے باوجود مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے اور اس کے بعد ہی سرکاری جائدادوں پر تقررات کرے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے ایک لاکھ سے زائد سرکاری تقررات کا اعلان کیا ہے، جب کہ 15 ہزار سے زائد جائدادوں پر تقررات کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا۔ اگر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے گئے تو 16 ہزار سرکاری ملازمتیں مسلمانوں کو حاصل ہوں گی اور تعلیمی شعبہ میں 280 میڈیکل نشستوں کے علاوہ ہزاروں مسلم طلبہ انجینئرنگ کالجس میں داخلہ حاصل کرسکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پر جمہوری انداز میں دباؤ ڈالنے کے لئے ریاست کے مسلمان اپنے اتحاد کا ثبوت دیں، تاکہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی دور ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیشن مسلمانوں کو تحفظآت فارہم کرنے کی سفارش نہیں کرسکتا بلکہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کا مجاز گردہ صرف بی سی کمیشن ہے ۔ اور بی سی کمیشن کی قیام ہی سے ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں سے کئے گئے اپنے وعدہ کو پورا کرسکتی ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 9 ویں شیڈول میں ترمیم کرواکر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جب کہ مرکز میں بی جے پی حکومت ہے، لہذا مرکزی حکومت سے مسلمان کوئی اچھی امید نہیں رکھ سکتے۔ اگر چیف منسٹر تلنگانہ، وزیر اعظم نریندر مودی پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو ڈالیں، مگر اس سے قبل بی سی کمیشن تشکیل دے کر مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کو پورا کریں۔ انھوں نے ایس سی، ایس ٹی سب پلان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان طبقات کو لاکھوں روپئے گرانٹ مل رہی ہے، انھیں اراضیات کی خریداری، بورویل کی تنصیب، بیکری اور فیکٹریوں کے قیام کے لئے بڑے پیمانے امداد دی جا رہی ہے، جب کہ مسلمانوں کو صرف آٹوز اور غریب لڑکیوں کی شادیوں کے لئے 51 ہزار روپئے دیئے جا رہے ہیں، لیکن اب مسلمانوں کو آٹوز نہیں بلکہ 12 تحفظات چاہئے۔  ( سلسلہ صفحہ6پرـ)

TOPPOPULARRECENT