Saturday , January 19 2019

ف12 فیصد تحفظات پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ

چیف منسٹر تلنگانہ کو قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کا مکتوب
حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے 4 فیصد مسلم تحفظات کی سپریم کورٹ میں جاری سماعت کا جائزہ لینے اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اپنے مکتوب میں مسٹر محمد علی شبیر نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت 4 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کے دستوری بنچ پر 4  فیصد مسلم تحفظات کی پیروی کے لیے تلنگانہ حکومت نے کسی وکیل کو روانہ نہیں کیا ہے ۔ چیف جسٹس نے 29 فروری کو سماعت کے دوران تلنگانہ حکومت کے نمائندے کی عدم موجودگی پر استفسار کیا ہے ۔ آندھرا پردیش بشمول تلنگانہ کے 4 فیصد مسلم تحفظات کا جائزہ لینے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھکر ، جسٹس فقیر محمد ابراہیم خلیفہ جسٹس شرد اروند بابڈے ، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس ادئے امیش للت پر مشتمل دستوری بنچ تشکیل دی گئی ہے ۔ سماعت کے دوران وہ خود نامور قانون داں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور ان کی ٹیم کے ارکان شکیل احمد ، جمیل اور پرویز دبت موجود تھے ۔ سینئیر کونسل پی پی راؤ نے حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے رجوع ہوئے ۔ بی سی کمیشن سے ایم احمد اور کرشنا مانی رجوع ہوئے لیکن حکومت تلنگانہ کا کوئی بھی نمائندہ سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں ہوا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں اور آج بھی بار بار دہرا رہے ہیں کہ تلنگانہ حکومت 4 فیصد مسلم تحفظات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے ۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کی مخالفت کرنے والے وکیل کو حکومت تلنگانہ نے ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر نامزد کیا ہے جس کی وہ ماضی میں بھی مخالفت کرچکے ہیں ۔ ایسے وکیل کی جس نے 4 فیصد مسلم تحفظات کی ماضی میں سپریم کورٹ میں مخالفت کرچکے ہیں ان سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے تلنگانہ حکومت کانگریس کی جانب سے مسلمانوں کو دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات کو جان بوجھ کر کمزور کرنا چاہتی ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے 2004 میں دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات سے ابھی تک تعلیمی شعبہ میں 10 لاکھ مسلمانوں کو فائدہ ہوا ہے ۔ 4 فصید مسلم تحفظات کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ کوشش نہ کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت غریب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچا رہی ہے ۔ سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی آئندہ سماعت 18 اپریل کو مقرر ہے ۔ لہذا تلنگانہ حکومت کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے 4 فیصد مسلم تحفظات کا نہ صرف جائزہ لے بلکہ مستقبل کی حکمت عملی تیار کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT