Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات کی تحریک کو کمزور کرنے کی سازشوں کیخلاف چوکسی ضروری

ف12 فیصد تحفظات کی تحریک کو کمزور کرنے کی سازشوں کیخلاف چوکسی ضروری

مسلم تحفظات سے وزیراعظم کا پس و پیش، ریاستی حکومت لیت و لعل کی حکمت عملی پر عمل پیرا، مسلمانوں میں جوش و خروش برقرار
حیدرآباد 27 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں غریبی و پسماندگی کے شکار مسلمانوں کو تعلیم و روزگار کے شعبوں میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے روزنامہ سیاست کی مہم کی مقبولیت سے خوفزدہ فرقہ پرست طاقتیں ریاست سے لے کر مرکزی سطح پر مسلمانوں کی اس غیر سیاسی تحریک کو کمزور کرنے کی سازشوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ واضح رہے کہ روزنامہ سیاست نے تلنگانہ میں مسلمانوں کو ان کی پسماندگی اور آبادی کے تناسب کے مطابق 12 فیصد تحفظات کے حصول کیلئے مہم کا آغاز کیا تھا اور روز اول سے ہی یہ مطالبہ رہا کہ دستوری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لئے بی سی کمیشن قائم کیا جائے اور اس کی سفارش کے مطابق تحفظات فراہم کئے جائیں۔ تاہم ریاستی حکومت اس مسئلہ پر دل بہلانے والے تیقنات کے ذریعہ ٹال مٹول کا رویہ اختیار کررہی ہے۔ ایک مرحلہ پر یہ بھی کہا گیا تھا کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے رجوع کیا جائے گا۔ جس سے اس وعدہ کی پابندی مشکوک ہوگئی ہے اور مسلمانوں کو اپنے دستوری حقوق سے محرومی کے اندیشوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب وزیراعظم مودی نے گزشتہ روز بہار میں بی جے پی کے انتخابی جلسوں سے خطاب کے دوران عظیم سیکولر اتحاد پر تنقید کے بہانے اپنا ذہن واضح کردیا کہ اقلیتوں کو مزید تحفظات نہیں دیئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے یہ الزام بھی عائد کیاکہ بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار ، یادو درج فہرست طبقات و قبائیل کیلئے مختص حصہ کو کم کرتے ہوئے ایک مخصوص طبقہ (مسلمانوں) کو پانچ فیصد تحفظات دینا چاہتے ہیں اور بی جے پی ایسا ہونے نہیں دے گی۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کو وعدہ کے مطابق 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے روزنامہ سیاست کی مہم میں مسلمانوں کے سرگرم رول اور دیگر سیکولر گوشوں کی بھرپور تائید و حمایت کے پیش نظر اب ایک منظم سازش کے تحت اس مسئلہ کو لیت و لعل میں رکھنے کی کوشش شروع ہوگئی ہے جس سے مسلمانوں کو ناقابل بیان نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر سرکاری حکام سے اپنی نمائندگیوں کا سلسلہ مزید شدت کے ساتھ جاری رکھیں تاکہ دستوری حق کے حصول مقصد پر مبنی اس مہم کو تاریخ ساز کامیابی سے ہمکنار کیا جائے۔ اس فیصلہ کن مرحلہ پر کسی کوتاہی یا سرد مہری کی صورت میں تلنگانہ کے مسلمانوں کو بالخصوص تعلیم و روزگار کے شعبوں میں اندازوں سے کہیں زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اور وہ ریاستی ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں اور دیگر فلاحی اسکیمات کے ثمرات سے محروم رہ جائیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT