Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں تاخیر سے مسلمانوں میں الجھن

ف12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں تاخیر سے مسلمانوں میں الجھن

اقلیتی اسکولوں میں تقررات اور ڈبل بیڈ مکانات اسکیم میں 12 فیصد کی فراہمی سے تشویش کا ازالہ ممکن : مسرس زاہد علی خان ‘ عزیز پاشاہ و دوسروں کا خطاب
بھونگیر 5 ؍ مارچ ( سیاست نیوز) بھونگیر مستقر پر 12% مسلم تحفظات اور تحفظ اوقاف کے عنوان پر ایک عظیم الشان جلسہ بمقام ایس وی ہوٹل کانفرنس ہال 4 مارچ کو بعد مغرب منعقد ہوا ۔ اس جلسہ کی صدارت ملت کے بے لوث ‘دردمند و مخلص رہنما ‘ عظیم قائد و حرکیاتی شخصیت ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان نے کی ۔ اس جلسہ میں دیگر سرکردہ قائدین ‘ سابق ایم پی عزیز پاشاہ ‘  صدر آل انڈیا مسلم فرنٹ و ممتاز قانون داں عثمان شہید ایڈوکیٹ جنرل سکریٹری وقف پروٹیکشن اینڈ میناریٹی ویلفیر سوسائٹی عثمان بن محمد الہاجری ‘ عظمت اللہ خان ریٹائرڈ ڈی ایس پی ‘ تنظیم انصاف کے ریاستی جنرل سکریٹری منیر پٹیل ‘ تنظیم انصاف گریٹر حیدرآباد کے صدر سید کلیم الدین عسکر کے علاوہ ایڈوکیٹ جمال شریف (جنگاؤں) سابق صدر ضلع ورنگل کانگریس میناریٹی سیل ‘ کے علاوہ مقامی ہریجن قائد اور بی ایس پی کامریڈ بٹو رامچندریا ‘ کانگریس قائد ستیہ نارائنا کے علاوہ  ایم اے رحیم ایڈوکیٹ ‘ اقبال چودھری ٹی ڈی پی صدر نے مخاطب کیا اور کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کے اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد جسٹس سچر کمیٹی و دیگر کمیٹیوں کی جانب سے رپورٹس کے واضح ثبوت رہنے کے باوجود مسلمانوں کو مراعات کے دینے میں حکومت کی جانب سے سردمہری اور تساہلی کا اعتراف خود چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے بھی کیا تھا ۔ انہوںنے وعدہ کیا تھا کہ برسراقتدار آنے کے اندرون چار ماہ میں وہ تمام دستوری اور قانون میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اور ممکن ہو تو ٹاملناڈو کی طرز پر تلنگانہ کے مسلمانوں  کو 12% تحفظات فراہم کئے جائیں گے ۔ کے سی آر کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے مسلمانوں نے ٹی آر ایس پارٹی کو برسراقتدار لانے میں ان کا ساتھ دیا تھا ۔ چار ماہ کا وعدہ کریںکے بعد تقریباً تین سال گذر چکے ہیں ریاستی حکومت کی اس تاخیر کے سبب مسلمانوں میں تشویش اور حکومت کی نیت مشکوک ہوگئی ہے ۔ اس کے ازالہ کیلئے ریاستی حکومت اپنے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے اقدامات کرے اور عوام میں پھیلی اس بے چینی کا فوری حل نکالنے پر توجہ دے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ چندرابابونائیڈو نے 4% تحفظات کا وعدہ کیا تھا فوری کانگریس نے 5% تحفظات کا اعلان کر دیا ۔ اور آج بھی مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے ۔ کے چندرشیکھرراو نے چار ماہ میں 12% تحفظات دینے کا وعدہ کیا اگر بی سی کمیشن قائم ہوا ہوتا تو مسئلہ اتنا طول نہیں پکڑتا ۔ ریاستی حکومت ٹال مٹول کرکے کبھی مرکز سے تجاویز کا بہانہ کرتی ہے تو کبھی کوئی اور بات کی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی بی جے پی حکومت شروع سے مسلمانوں کو تحفظات کی مخالف ہے ۔ ہم گذشتہ تین سال سے اس کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ کے سی آر نے جو وعدہ کیا تھا اس کو عملی جامہ پہنانے کی مانگ کر رہے ہیں ۔ حکومت کی تاخیر سے عوام میں الجھن اور چیف منسٹر کی نیت پر شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں جائیدادوں میں بھرتی کا اعلان ہوا ہے ۔ اقلیتی اسکولوں میں 12% تحفظات سے حکومت کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ مزید ڈبل بیڈ روم اسکیم میں بھی 12% مکانات الاٹ کرنے میں بھی حکومت کو کوئی دشواری نہیں ہے ۔       ( باقی سلسلہ صفحہ 6 پر )

TOPPOPULARRECENT