Tuesday , November 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات کے لئے ووٹ کو ہتھیار بنائیں

ف12 فیصد تحفظات کے لئے ووٹ کو ہتھیار بنائیں

وعدہ فراموش پارٹیوں کو سبق سکھانے کی ضرورت: محمد جمال شریف ایڈوکیٹ

جنگاؤں /24 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اقلیتی چیرمین کانگریس ضلع ورنگل محمد جمال شریف ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت صرف عوام سے وعدہ کر رہی ہے، جب کہ اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔ ہر قوم و مذہب کے عوام کو چیف منسٹر نے دھوکہ دیا ہے۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا، مگر آج تک اس پر کوئی پہل نہیں ہوئی، جب کہ دو سال کا عرصہ ہونے کو آرہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مساجد کے ائمہ و مؤذنین کو ایک ہزار روپئے دینے کا اعلان کیا گیا، مگر اب تک یہ رقم جاری نہیں کی گئی۔ صرف مسلمانوں کو دھوکہ دے کر بلدی انتخابات حیدرآباد میں ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد کے باشعور مسلم ووٹرس سوچ سمجھ کر ووٹ دیں اور حکومت کو اس بات کا احساس دلائیں کہ 12 فیصد تحفظات نہ دینے سے شہر کے مسلمان اس پارٹی سے دور ہو گئے ہیں۔ اگر اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ نہیں کیا تو بعد میں مشکل ہوگی۔ آج تلنگانہ کے ہر ضلع و شہر میں 12 فیصد تحفظات کے لئے روزنامہ سیاست کی جانب سے مہم چلائی جا رہی ہے اور ہر جگہ کے عوام اس تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جناب عامر علی خاں کی جانب سے شروع کردہ اس تحریک سے مسلمانوں کا شعور بیدار ہوا ہے، تاہم ہر مسلم قائد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کی مہم میں حصہ لیں، تاکہ حکومت جلد سے جلد مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرے۔ انھوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں مسلم ووٹرس کی اکثریت ہے، لہذا مسلمان ان ہی قائدین اور پارٹیوں کا ساتھ دیں، جو ان کے حقیقی ہمدرد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے، جس کی وجہ سے کئی مسلم طلبہ و طالبات آج اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور 4 فیصد تحفظات کے سبب بی سی وارڈس سے مسلم مرد و خواتین انتخابات میں مقابلہ کر رہے ہیں، جب کہ یہ کارنامہ دراصل کانگریس کا ہے۔ اگر کانگریس 4 فیصد تحفظات نہ دیتی تو آج بی سی ریزرویشن والے وارڈس میں مسلمانوں کا مقابلہ کرنا مشکل تھا۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کانگریس کی اسکیمات کو نام بدل کر عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے مسلمان 12 فیصد تحفظات کو اپنے ذہن میں رکھ کر ووٹ دیں۔ اگر اس وقت حکومت کو دھکا نہیں دیں گے تو تحفظات کا حاصل ہونا مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی چیف منسٹر جلد سے جلد 12 فیصد تحفظات کا اعلان کریں، اس لئے کہ ایک لاکھ سرکاری ملازمت کا اعلان ہو رہا ہے، جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ حکومت نے پولیس کانسٹبل کی بھرتی کا اعلان کیا ہے، اگر مسلمانوں کو تحفظات حاصل ہو جائیں تو انھیں کافی فائدہ ہوگا، جب کہ چیف منسٹر کو چاہئے کہ کم از کم ملازمتوں میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرتے ہوئے اعلامیہ کی اجرائی کریں۔ انھوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے متعدد مقامات پر مسلمان غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اگر ان کے بچوں کو نوکری مل جائے تو وہ خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT