Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد مسلم تحفظات پر حکومت تلنگانہ کی بے حسی پر اظہار افسوس

ف12 فیصد مسلم تحفظات پر حکومت تلنگانہ کی بے حسی پر اظہار افسوس

سیاست کی تحریک ناقابل فراموش ، چیف منسٹر اور وزراء کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے ثابت
حیدرآباد ۔ 22 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے لیے روزنامہ سیاست کی تحریک کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے حکومت کی بے حسی پر سخت تنقید کیا اور کہا کہ اگر تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر ہی حکومتیں توجہ دیتی ہیں تو مسلمان اس کے لیے بھی تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کے روح رواں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں نے تلنگانہ کے ہر ضلع و شہر اور گاوں کا دورہ کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں شعور بیدار کیا ہے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے ارکان خاندان اور حکومت کے ذمہ داران ریاستی وزراء کے ٹی آر ، ہریش راؤ ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور رکن پارلیمنٹ مسز کویتا کے علاوہ دیگر قائدین نے مسلمانوں کو جلد از جلد 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ تاہم وعدے کو نبھانے کے لیے حکومت سنجیدہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان پرامن تحریک چلا رہے ہیں ۔ تلنگانہ کے تمام تحصیلداروں کلکٹرس ، آر ڈی او ، وزراء اور عوامی منتخب نمائندوں کو تحریری یادداشتیں پیش کرچکے ہیں ۔ اجلاس ، جلسے ، ریالیاں اور بھوک ہڑتال ، منظم کرچکے ہیں ۔ باوجود اس کے ٹی آر ایس حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ صرف ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رہی ہے جس سے بڑی تعداد میں تلنگانہ کے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں سے محروم ہونا پڑرہا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدہ کو نبھانے میں ناکام ہوچکے ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت اور وعدے کو جلد از جلد نبھانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے ۔ بصورت دیگر حکومت کے خلاف کانگریس کی جانب سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا انتباہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پرامن تحریک کو نظر انداز کررہی ہے ۔ بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ آندھرا پردیش میں کاپو طبقہ کی جانب سے تشدد برپا کرنے پر حکومت انہیں تحفظات دینے تیار ہوئی ہے ۔ جاٹ طبقہ کی جانب سے ہریانہ میں تشدد ، سرکاری املاک کو نقصان پہونچانے کے بعد مرکزی این ڈی اے حکومت نے جاٹ طبقہ کو تحفظات فراہم کرنے کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے اور ہریانہ کے چیف منسٹر نے اسمبلی کے بجٹ سیشن میں بل منظور کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ اگر تشدد سے ہی 12 فیصد مسلم تحفظات حاصل ہوسکتے ہیں تو مسلمان اس سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ مسلمانوں کو جمہوریت اور قانون پر پورا بھروسہ ہے ۔ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے مگر حکومت پرامن احتجاج کو نظر انداز کررہی ہے ۔ پھر مسلمان بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لیے غور کریں گے ۔ اس کے جو بھی اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT