Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد مسلم تحفظات پر چیف منسٹر نے مسلمانوں کو گمراہ کیا

ف12 فیصد مسلم تحفظات پر چیف منسٹر نے مسلمانوں کو گمراہ کیا

وزیر اعظم سے مثبت رد عمل ملنے کا ادعا ناقابل فہم ‘ کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔19 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ دعوت افطار کے موقع پر چیف منسٹر نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے سلسلہ میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے مسلم تحفظات کے حق میں مثبت ردعمل کے اظہار کا دعوی ناقابل فہم ہے۔ جبکہ بی جے پی نے مسلم تحفظات کے خلاف قومی سطح پر اپنے موقف کا پہلے ہی اظہار کردیا۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ تلنگانہ کے دورے پر کے موقع پر مسلم تحفظات کی مخالفت کرچکے ہیں۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ ان حالات میں وہ کس طرح مرکزی حکومت سے 12 فیصد مسلم تحفظات کے قانون کی منظوری حاصل کر پائیں گے۔ چیف منسٹر کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ دعوت افطار کو سیاسی مقصد براری کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے موقع پر حکومت کی جانب سے دعوت افطار کا اہتمام کوئی نئی روایت نہیں ہے بلکہ متحدہ آندھراپردیش کے قیام سے یہ روایت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں جیسے کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے دعوت کا پہلی مرتبہ اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب مسلم خاندانوں میں رمضان گفٹ کی تقسیم دراصل مسلمانوں کی غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 380 روپئے میں 3 ملبوسات کا ٹینڈر منظور کیا گیا اور اسی رقم میں فراہم کئے گئے ملبوسات کے گفٹ پیاکٹس کو مساجد کے پاس غریب مسلمانوں کو قطار میں کھڑا کرتے ہوئے تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو گھروں سے نکلنے کی زحمت دینے کے بجائے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ برسر اقتدار پارٹی کے قائدین خود غریب بستیوں کا دورہ کرتے اور غریبوں تک گفٹ پیاکٹس پہنچاتے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل پبلسٹی اور شہرت کے لیے حکومت نے اس طرح غریبوں کو سڑکوں پر لانے کا کام کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت سنجیدہ ہو تو اسے چاہئے کہ عمل آوری کے سلسلہ میں تمام محکمہ جات کو احکامات جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے احکامات کی اجرائی میں حکومت کے لیے کوئی روکاٹ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی منظوری کا انتظار دراصل حکومت کی عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی زیر قیادت کانگریس حکومت نے 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کا احکامات کے ذریعہ آٓغاز کردیا تھا اور بعد میں جب یہ معاملہ عدالت میں پہنچا تو وہاں بھی حکومت نے تحفظات کا دفاع کیا جس پر آج تک عمل آوری جاری ہے۔ محمد علی شبیر نے مسلم تحفظات کے سلسلہ میں چیف منسٹر کی عدم دلچسپی کی مثال کچھ اس طرح پیش کی کہ بی سی کمیشن نے مسلمانوں کو 10 فیصد تحفظات کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے 12 فیصد تحفظات کے قانون کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مرکز پر انحصار کئے بغیر اپنے طور پر عمل آوری کا آغاز کردے تو جاریہ تعلیمی سال ہزاروں طلبہ کو پیشہ ورانہ کورسس میں داخلے حاصل ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT