قائد اپوزیشن تنازعہ ، اسپیکر کو نشانہ بنانے پر کانگریس کی مذمت

نئی دہلی۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن کو قائد اپوزیشن کے مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بنانے پر کانگریس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی کی ’’مایوسی‘‘ جھلکتی ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ بی جے پی کو عوام کا دیا ہوا اختیار ہے۔ اسے قائد اپوزیشن کے عہدہ کے سلسلے میں متنازعہ نہیں بنانا چاہئے۔ مرکزی وزیر ممل

نئی دہلی۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن کو قائد اپوزیشن کے مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بنانے پر کانگریس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی کی ’’مایوسی‘‘ جھلکتی ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ بی جے پی کو عوام کا دیا ہوا اختیار ہے۔ اسے قائد اپوزیشن کے عہدہ کے سلسلے میں متنازعہ نہیں بنانا چاہئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے پارلیمانی اُمور پرکاش جاؤدیکر نے کہا کہ اسپیکر پر شک و شبہ ظاہر کرنا سخت قابل اعتراض، قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ اگر عوام نے برسراقتدار رہنے کا اختیار دیا ہے تو وہ کانگریس کے 55 ارکان کو بھی منتخب کرسکتے تھے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو بی جے پی کیا کرسکتی ہے۔ بی جے پی کا یہ بیان کانگریس قائد امریندر سنگھ کے اس الزام کے فوری بعد منظر عام پر آیا ہے کہ قائد اپوزیشن کے معاملے میں اسپیکر نے ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس سے اندیشے پیدا ہوتے ہیں کہ ان پر حکومت نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ہے۔ جاؤدیکر نے کہا کہ اس سے کانگریس کی مایوسی جھلکتی ہے ۔ وہ پارلیمنٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ کانگریس قائد کمل ناتھ نے سمترا مہاجن پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض پارٹیوں کا احساس ہے کہ کئی مسائل پر جو وہ اٹھانا چاہتے تھے۔ انہیں اہمیت نہیں دی گئی، جس کے وہ مستحق تھے۔ اس تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جاؤدیکر نے کہا کہ کانگریس قائدین کا ردعمل نامناسب ہے۔ اسپیکر کے عہدہ پر شکوک و شبہات ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔ اسپیکر ایوان کا ہوتا ہے اور جو کوئی صدرنشین کی کرسی پر ہو ، غیرجانبدار رویہ اختیار کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT